• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 3088

    عنوان:

    کیا حج نفل کے لیے مدارس والے رخصت بلاتنخواہ دیتے ہیں ، کیا باتنخواہ بھی دے سکتے ہیں؟ (۲) کیا اردو اخبارات کو جو دینی باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں فروخت کرسکتے ہیں جبکہ انہیں گلا کر دوسرے کاغذ ات بنائے جاتے ہیں؟

    سوال:

    کیا حج نفل کے لیے مدارس والے رخصت بلاتنخواہ دیتے ہیں ، کیا باتنخواہ بھی دے سکتے ہیں؟

    (۲) کیا اردو اخبارات کو جو دینی باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں فروخت کرسکتے ہیں جبکہ انہیں گلا کر دوسرے کاغذ ات بنائے جاتے ہیں؟

    جواب نمبر: 3088

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1581/ھ=1239/ھ

     

    (۱) اگر مصالح مدرسہ کے مناسب ہو، تعلیم و تربیت میں اس کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور ذمہ داران مدرسہ قانوناً اس کو طے کردیں، تو حج نفل کی رخصت مثل حج فرض کے با تنخواہ لینے دینے کی گنجائش ہوگی۔

     

    (۲) جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ دینی باتوں پر مشتمل حصہ والا کاغذ کاٹ کر الگ کر لیا کریں اور بقیہ کو بیچ دیں اور اگر دوبارہ کاغذ بن کر تیار ہونے پر مسلمان خرید لیا کریں اور اپنے پریس میں دینی کتابیں چھاپنے ہی کے کام میں لے آیا کریں تو یہ سب سے بہتر امر اور بہت عمدہ صورت ہوجائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند