• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 163195

    عنوان: چندہ کرکے مسجد میں روزہ کھلوانا؟

    سوال: ہماری گلی کی مسجد میں ہر سال گلی کے لڑکے ایک روزہ مسجد میں کھلواتے ہیں، جس کے لئے وہ گلی والوں سے پیسے اکٹھا کرتے ہیں اور پھر گلی کے اچھے خاصے گھروں کے لوگ بھی جن کے گھروں میں اللہ نے انہیں افطار کا اچھا انتظام کرا رکھا ہے مسجد میں آگر روزہ کھولتے ہیں اور افطار کا اعلان مسجد کے مائک سے کیا جاتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 16319501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1185-1014/D=10/1439

    اجتماعی افطار کا مذکور فی السوال نظم وانتظام چند وجوہ سے مناسب نہیں ہے، بلکہ بسا اوقات مفاسد وخرابیوں کا موجب ہے اس لیے قابل ترک ہے۔

    (۱) مسجد میں انتظام کرنے سے مسجد کی بے ادبی اور فرش کی پامالی نیز بسا اوقات شعور وشغب کا باعث ہوگا جو کہ مکروہ ہے۔

    (۲) اس کے لیے چندہ کرنا خود مفاسد کا باعث ہے کبھی دباوٴ اور شرما حضوری سے پیسہ جمع ہوتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور کبھی فخر ونام آوری مقصود ہوتی ہے جو کہ منع ہے۔

    (۳) لوگوں کو اس کے لیے جمع ہونے کا اعلان کرنا درست نہیں جس سے روزہ دار اور غیرروزہ دار سب جمع ہوتے ہیں اور اگر انتظام کرنے والوں کا مقصد صرف غریب مسافر روزہ داروں کے لیے نظم کرنا ہو تو گنجائش ہوسکتی ہے بشرطیکہ اس کے لیے چندہ نہ کیا جائے بلکہ دو ایک مخصوص لوگ اپنی طرح سے نظم کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند