• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 153603

    عنوان: عید گاہ کی آمدنی کا مصرف

    سوال: Fatwa: 1006-957/sd=10/1438 عیدگاہ اور مدرسہ دو الگ الگ وقف ہیں، لہذاعیدگاہ کی دوکانوں کی آمدنی مدرسہ میں خرچ کرنا درست نہیں ہے ، اگر عیدگاہ میں ابھی ضرورت نہیں ہے ، تو آئندہ کے لیے رقم محفوظ کر لی جائے اور اگر عیدگاہ میں آئندہ بھی رقم صرف کرنے کی ضرورت نہ ہو، تو اس کی وضاحت کر کے دوبارہ سوال کریں ۔ شرط الواقف کنص الشارع أی فی المفہوم والدلالة ووجوب العمل بہ۔ (الدر المختار، کتاب الوقف / مطلب فی قولہم شرط الواقف کنص الشارع، و۶۴۹زکریا، وکذا فی الأشباہ والنظائر، کتاب الوقف / الفن الثانی، الفوائد: ۱۰۶/۲إدارة القرآن کراچی، تنقیح الفتاویٰ الحامدیة ۱۲۶/۱المکتبة المیمنیة مصر)وکذا الرباط والبئر إذا لم ینتفع بہما، فیصرف وقف المسجد والرباط والبئر والحوض إلی أقرب مسجد أو رباط أو بئر أو حوض۔ (الدر المختار) وفی شرح الملتقیٰ: یصرف وقفہا لأقرب مجانس لہا الخ۔ (رد المحتار، کتاب الوقف / مطلب فیما لو خرب المسجد أو غربہ) مستفاد : امداد الفتاوی : ۲/۵۷۶تا ۵۸۲ ) مندرجہ بالا جواب کے پس منظر میں دوبارہ سوال کیا جارہا ہے کہ عیدگاہ میں آئندہ بھی رقم صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس لئے دوکانوں کی آمدنی کو اس سے متصل مدرسہ کے مد میں صرف کرنے کی کوئی گنجائش شرعا ہے تو مطلع فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 153603

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1250-1172/sd=11/1438

    اگر آئندہ بھی رقم صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، تو قریبی عیدگاہ میں رقم صرف کی جائے گی ، اگر قریب میں عیدگاہ نہ ہو، تو پھر مسجد میں صرف کر دی جائے ،دوسری عیدگاہ یا مسجد ہوتے ہوئے مدرسہ میں رقم صرف کرنا جائز نہیں ہے ، اس لے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ ایک وقف کی زائد رقم کو اُس کی قریبی جنس میں صرف کرنے کی گنجائش ہے ، غیر جنس میں صرف کرنا درست نہیں ہے۔

    وکذا الرباط والبئر إذا لم ینتفع بہما، فیصرف وقف المسجد والرباط والبئر والحوض إلی أقرب مسجد أو رباط أو بئر أو حوض۔ (الدر المختار) وفی شرح الملتقیٰ: یصرف وقفہا لأقرب مجانس لہا الخ۔ (رد المحتار، کتاب الوقف / مطلب فیما لو خرب المسجد أو غربہ )مستفاد : امداد الفتاوی : ۵۷۶/۲تا ۵۸۲ )۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند