• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 150299

    عنوان: ناجائز زمین پر مسجد بنانا اور اس میں نماز پڑھنا؟

    سوال: (۱) ناجائز قبضہ کی زمین جو کہ پبلک ورک ڈپارٹمنٹ ، سرکاری حوض ، زمین ہے، میں بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے؟ (۲) کیا قبرستان میں بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے؟ (۳) کیا قبرستان میں مسجد، وضو خانہ ، پائپ لائن وغیرہ بنانا جائز ہے؟ (۴) کیا جماعت کو توڑنا جائز ہے؟ (۵) مکروہ کیا ہے؟جان بوجھ کر مکروہ کے کرنے پر کیا سزا ہے؟ (۶) جمعہ کی نماز قائم کرنے کے لیے دو مسجدوں کے درمیان کتنی مسافت ہونی چاہئے؟

    جواب نمبر: 15029901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 836-963/B=10/1438

    (۱) ناجائز قبضہ کی ہوئی زمین پر مسجد بنانا جائز نہیں اس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

    (۲) موقوفہ قبرستان صرف مسلمان میت کو دفن کرنے کے لیے وقف ہوتا ہے، اس میں مسجد بنانا جائز نہیں، ایسی مسجد میں نماز پڑھ لی تو بکراہت جائز ہے۔

    (۳) جائز نہیں۔

    (۴) کون سی جماعت کو توڑنا مراد ہے؟ سوال کو واضح فرمائیں۔

    (۵) جس عمل پر کوئی وعید آئی ہو تو وہ عمل مکروہ تحریمی ہوتا ہے، اس کا کرنے والا گنہ گار ہوگا۔

    (۶) اس کے لیے کوئی مسافت نہیں بتائی گئی ہے، البتہ جمعہ شہر کی سب سے بڑی مسجد میں پڑھنی چاہیے، اگر بہت بڑا شہر ہے کہ سارے لوگ ایک مسجد میں نہیں آسکتے تو متعدد بڑی مسجدوں میں جمعہ قائم کرنا درست ہے۔ جمعہ میں اپنی کثرت کا اور اپنی اجتماعیت کا مظاہرہ مقصود ہوتا ہے اس لیے بہت چھوٹی چھوٹی مسجد میں جمعہ پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند