• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 67438

    عنوان: قرآنی لفظ "انما " کا اصل مطلب اور قرآنی آیات میں صرف کے طور پر استعمال

    سوال: جناب گزارش ہے کہ بندہ نے قرآن کی سورہ یسین کی آیت نمبر 10 کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب آسان ترجمہ قرآن میں دیکھا، وہاں تحریر تھا کہ " تم تو صرف ایسے شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت پر چلے " یہاں انما جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے کا مطلب کا ترجمہ صرف کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔جبکہ عربی زبان کے ماہرین کے مطابق "انما" بطور صرف استعمال کرنا عام غلطی ہے ۔اصل لفظ فقط کا معنی صرف ہے ۔اس طرح اور بھی کافی ترجموں میں انما بطور صرف کے معنی استعمال ہوا ہے ۔ جبکہ قاموس الجدید جو کہ مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی استاز ارب عربی دارلعلوم دیو بند نے لکھی ہے کہ مطابق بھی انما کا مطلب صرف ہے ۔مہربانی فرما کر اشکال دور کریں۔

    جواب نمبر: 67438

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 879-722/D=11/1437 یہ دعویٰ کہ عربی زبان کے ماہرین کے مطابق ”انما“ بطور صرف استعمال کرنا عام غلطی ہے اس میں ”انما“ عربی کا لفظ ہے اور ”صرف“ اردو زبان کا لفظ ہے اور معنی کے تبادلے میں ایک زبان کا ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ دونوں زبانوں کا ماہر ہونا ضروری ہے حضرت مولانا وحیدالزماں صاحب کیرانوی اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دونوں حضرات عربی اردو دونوں زبانوں کے ماہر ہیں لہذا ان کی بات تسلیم کی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند