• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 63880

    عنوان: کیا جنبی قرآن کریم کی تلاوت کرسکتا ہے؟

    سوال: میں نے پڑھا ہے کہ جنبی شخص اسلام کے چھے کلمے اور زکرواذکار وغیرہ کرسکتاہے اور اسلامی کتابیں، تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابیں بھی پڑھ سکتا ہے اور ایسی کتابوں کو جنمیں قرآنی آیات سے زیادہ الفاظ ترجمہ اور تفسیر وغیرہ کے ہوں، ہاتھ بھی لگا سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے لیکن جس حصے پر قرآنی آیات لکھی ہوں اس پر ہاتھ نہیں لگاسکتا اور نہ قرآنی آیات پڑھ سکتا ہے . کیا یہ صحیح ہے ؟ کیا جنبی شخص ہر حالت میں یہ سب کام کرسکتاہے یعنی چاہے جنبی شخص کا جسم ظاہری طور پر پاک ہو یا ناپاک ہو وہ یہ سب کام کرسکتا ہے ؟ میں جنابت کے بقیہ احکامات جانتا ہوں کہ جنبی شخص مصحف کو اور ایسی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاسکتا جسمیں قرآنی آیات بقیہ الفاظ سے زیادہ ہوں اور مسجد نہیں جاسکتا وغیرہ تو اسلیے انکو بیان نہ کیجئے گا. میں نے پڑھا ہے کہ جنبی شخص اسلام کے چھے کلمے اور زکرواذکار وغیرہ کرسکتاہے اور اسلامی کتابیں، تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابیں بھی پڑھ سکتا ہے اور ایسی کتابوں کو جنمیں قرآنی آیات سے زیادہ الفاظ ترجمہ اور تفسیر وغیرہ کے ہوں، ہاتھ بھی لگا سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے لیکن جس حصے پر قرآنی آیات لکھی ہوں اس پر ہاتھ نہیں لگاسکتا اور نہ قرآنی آیات پڑھ سکتا ہے . کیا یہ صحیح ہے ؟ کیا جنبی شخص ہر حالت میں یہ سب کام کرسکتاہے یعنی چاہے جنبی شخص کا جسم ظاہری طور پر پاک ہو یا ناپاک ہو وہ یہ سب کام کرسکتا ہے ؟ میں جنابت کے بقیہ احکامات جانتا ہوں کہ جنبی شخص مصحف کو اور ایسی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاسکتا جسمیں قرآنی آیات بقیہ الفاظ سے زیادہ ہوں اور مسجد نہیں جاسکتا وغیرہ تو اسلیے انکو بیان نہ کیجئے گا۔

    جواب نمبر: 63880

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 359-359/Sd=6/1437 جی ہاں! جنبی شخص قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ مذکورہ تمام امور انجام دے سکتا ہے خواہ اُ س کا ظاہری جسم پاک ہو یا ناپاک؛ البتہ حالتِ جنابت میں قرآن کریم کے علاوہ دیگر کتب شرعیہ کو بھی چھونا، خاص طور پر تفسیر کی کتاب کو چھونا بہتر نہیں ہے۔ قال الحصکفي: المستحب أن لایأخذ الکتب الشرعیة بالکم أیضاً تعظیماً؛ لکن في الأشباہ من قاعدة: اذا اجتمع الحلال والحرام، رجح الحرام، وقد جوز أصحابنا مس کتب التفسیر للمحدث، ولم یفصلوا بین کون الأکثر تفسیراً أو قرآناً، ولو قیل بہ اعتباراً للغالب لکان حسناً۔ قلتُ: لکنہ یخالف ما مر، فتدبر۔ قال ابن عابدین: (قولہ: لکن في الأشباہ الخ ) استدراک علی قولہ ” والتفسیر کمصحف “ فان ما في الأشباہ صریح في جواز مس التفسیر، فہو کسائر الکتب الشرعیة؛ بل ظاہرہ أنہ قول أصحابنا جمیعاً، وقد صرح بجوازہ أیضاً في شرح درر البحار ۔ وفي السراج عن الایضاح : أن کتب التفسیر لا یجوز موضع القرآن منہا، ولہ أن یمس غیرہ ، وکذا کتب الفقہ اذا کان فیہا شيء من القرآن بخلاف المصحف؛ فان الکل فیہ تبع للقرآن۔ والحاصل أنہ لا فرق بین التفسیر وغیرہ من الکتب الشرعیة علی القول بالکراہة وعدمہ۔۔۔۔أقول: الأظہر والأحوط القول الثالث، أي: کراہتہ في التفسیر دون غیرہ لظہور الفرق؛ فان القرآن في التفسیر أکثر منہ في غیرہ ، وذکرہ فیہ مقصوداً استقلالاً لا تبعاً، فشبہہ بالمصحف أقرب من شبہہ ببقیة الکتب ۔۔۔۔قولہ:” فتدبر “ لعلہ یشیر بہ الی أنہ یمکن ادعاء تقیید اطلاق المتن بما اذا لم یکن التفسیر أکثر ، فلا ینافي دعوی التفصیل ۔(رد المحتار ۱۱/۳۲۰، کتاب الطہارة، ط: زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند