• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 605979

    عنوان:

    اپنی زندگی میں اپنا مکان اپنی بیٹیوں کے نام کرنا؟

    سوال:

    ایک شخص کی صرف لڑکیاں ہیں اور انکی شادی ہو چکی ہے ، بیوی کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور اب وہ چاہتا ہے کہ اپنا مکان اپنی زندگی ہی میں بیٹیوں کے نام کردے کیونکہ اسکے مرنے کے بعد تو بیٹیوں کو دو تہائی ہی حصہ ملے گا باقی ایک تہائی اسکے بھاء بہنوں یا دوسرے قریبیوں کو ملے گا*

    سوال-: یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے۔ کیا ایسا کرنا کچھ متوقع وارثین کو محروم کرنے کے زمرے میں نہی آئے گا۔* Fatwa me Jwab Ye Aaya?? بیٹی کا باپ کی زندگی میں اپنا حصہ مانگنا سوال کیا اکلوتی بیٹی باپ کی زندگی میں جائیداد میں سے حصہ مانگ سکتی ہے؟ جواب ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں کوئی حق و حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا، تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر صاحبِ جائیداد اپنی رضامندی سے اپنی جائیداد اپنی بیٹی کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے، لیکن بیٹی کو حصے کے مطالبے کا شرعی حق نہیں۔ فقط واللہ اعلم فتوی نمبر : 144211200622 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن Ab Mera Sawal ye h Zara Ghor Farmaye aur Baraye Meherbani Jwab Dein ?? *السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ* *اصل سوال یہ نہی تھا جتنے بھی جواب آئے ہیں وہ صرف اولاد میں ہبہ کے فیور FAVOR میں آئے ہیں اولاد کے علاوہ بھی تو وارثین پوتے ہیں انکے حقوق کا مسئلہ ہے آخر اللہ تعالیٰ نے صرف بیٹی یا بیٹیاں ہونے پر آدھا حصہ یا دو تہائی (Two third) کیوں رکھا ہے پوری جائیداد کا وارث انکو کیوں نہی بنایا ۔ اور اگر اسی طرح سے ہبہ کیا جاتا رہا تو اولاد کے علاوہ جتنے بھی وارثوں کا ذکر ہے قرآن میں وہ اکثر صورتوں میں کبھی ترکہ پائیں گے ہی نہی آلا ماشاء اللہ کیونکہ مرنے والا تو ہبہ کر دے گا اپنی زندگی ہی میں... اپنی اولاد کو یا جس کو چاہے گا...

    جواب نمبر: 605979

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 5-3T/B=01/1443

     ویسے تو باپ اپنی حیات میں اپنی جملہ جائداد کا مالک و مختار ہے، کسی کو بھی فروخت کرسکتا ہے یا ہبہ کرسکتا ہے۔ اپنی بیٹیوں کے نام بھی کرسکتا ہے۔ اللہ تعالی نے جتنا جتنا حصہ وارثوں کا مقرر کیا ہے دوسرے ورثہ کو محروم رکھنے کے لئے اپنی بیٹیوں کو کل دے دینا جائز نہیں۔ اس سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند