• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 603101

    عنوان:

    سیاسی نظام خلافت آج كل كیوں متروك ہے؟

    سوال:

    اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے ۔ اس حوالے سے کوئی مستند حدیث باحوالہ سند پیش کی جائے ، اور یہ نظام حضرت ابوبکر صدیق سے شروع ہوا اور پھر چلتا رہا، لیکن آج کیوں متروک ہے ؟ کیا کوئی نئی آیت آئی کہ اب خلافت کا نظام ختم ہے ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 603101

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 541-107/D=07/1442

     سورہ النور آیت: 55-56، پارہ 18 میں اللہ تعالی نے خلافت ارضی کا وعدہ فرمایا ہے کہ ایمان میں راسخ اور عمل صالح میں کامل ہوں گے تو ہم ان کو حکومت عطا فرمائیں گے۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ الخ۔

    ترجمہ: اے مجموعہٴ امت ”تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں“ یعنی اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے نور ہدایت کا کامل اتباع کریں ”ان سے اللہ تعالی ودعدہ فرماتا ہے کہ ان کو“ اس اتباع کی برکت سے ”زمین میں“ حکومت ”عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے“ اہل ہدایت ”لوگوں کو حکومت دی تھی“ یعنی یہ وعدہ اللہ تعالی کا مشروط ہے دین پر پوری طرح ثابت قدم رہنے کے ساتھ (مزید تفصیل معارف القرآن میں دیکھیں) ۔

    اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا: کہ آپ کی امت کو زمین کے خلفاء اور حکمراں بنایا جائے گا اور اللہ تعالی کے پسندیدہ دین اسلام کو غالب کیا جائے گا اور مسلمانوں کو اتنی قوت و شوکت دی جائے گی کہ ان کو دشمنوں کا کوئی خوف نہ رہے گا۔ اللہ تعالی نے یہ وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مکہ خیبر بحرین اور پورا جزیرہٴ عرب اور یمن مسلمانوں کے قبضہ میں دیدیا پھر دَور صدیقی دَور فاروقی دَور عثمانی میں یہ سلسلہ بڑھتا رہا اور خلافت عثمانی کے وقت میں اسلامی فتوحات کا دائرہ مشارق و مغارب تک وسیع ہوگیا۔

    ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ (12) عادل خلفاء ہونے کی بشارت دی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب مسلسل ہوں؛ بلکہ ہوسکتا ہے کہ کچھ وقفوں کے بعد ہوں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سب خلفاء کے درجات برابر ہوں اور سب کے زمانے میں امن و سکون دنیا کا یکساں ہو؛ بلکہ اس وعدہ کا مدار ایمان و عمل صالح پر استقامت اور مکمل اتباع پر ہے۔ اس کے درجات کے اختلاف سے حکومت کی نوعیت و قوت میں بھی فرق و اختلاف لازمی ہے۔ پچھلے زمانے میں جہاں کوئی عادل بادشاہ ہوا ہے اس کو اپنے عمل و صلاح کے پیمانہ پر اس وعدہء الہٰیہ کا حصہ ملا ہے۔

    یہ وعدہ جس طرح پچھلے دَور میں تھا آج بھی ہے ایمان اور عمل صالح پر استقامت پر حکومت و خلافت کے ملنے کا وعدہ ہے۔ اس لحاظ سے امت مسلمہ میں مجموعی اعتبار سے جو کمی ہے وہ اہل بصیرت پر مخفی نہیں۔ مزید تفصیل کے لئے معارف القرآن : 8/439، ملاحظہ فرمائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند