• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 58843

    عنوان: بعض لوگ بیانات میں کہہ رہے ہیں کہ قرآن کی تفسیر پڑھنے سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں، اس لیے نہیں پڑھنا چاہئے ، مولانا سعد صاحب نے بھی یہی بات اپنے بیانات میں کہہ رہے ہیں اور اس لیے دعوت و تبلیغ میں صرف منتخب احادیث اور فضائل اعمال پڑھتے ہیں ، لوگ ہفتہ وار اجتماع میں دور دراز سے عالم دین کو تنخواہ دے کر کہ حکایت الصحابہ پڑھواتے ہیں مگر قرآن کے معنی یاتفسیر نہیں ، یہ کیا ہے اور چار ماہ لگایا ہوا ہی مسلمان ہے ، کیا باقی سب گمراہ ہیں ؟ چار ماہ لگانا ہر مسلمان پر فرض ہے کیا؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں ۔

    سوال: بعض لوگ بیانات میں کہہ رہے ہیں کہ قرآن کی تفسیر پڑھنے سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں، اس لیے نہیں پڑھنا چاہئے ، مولانا سعد صاحب نے بھی یہی بات اپنے بیانات میں کہہ رہے ہیں اور اس لیے دعوت و تبلیغ میں صرف منتخب احادیث اور فضائل اعمال پڑھتے ہیں ، لوگ ہفتہ وار اجتماع میں دور دراز سے عالم دین کو تنخواہ دے کر کہ حکایت الصحابہ پڑھواتے ہیں مگر قرآن کے معنی یاتفسیر نہیں ، یہ کیا ہے اور چار ماہ لگایا ہوا ہی مسلمان ہے ، کیا باقی سب گمراہ ہیں ؟ چار ماہ لگانا ہر مسلمان پر فرض ہے کیا؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں ۔

    جواب نمبر: 58843

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 850-866/L=7/1436-U (۱) ))قرآ ن کی تفسیر پڑھنے سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں“ علی الاطلاق یہ بات درست نہیں ہے؛ کیونکہ قرآن ہدایت کا ذریعہ ہے نہ کہ گمراہی کا؛ البتہ اس دور میں بہت سے باطل عقیدے والے بھی اپنی تفسیریں رائج کیے ہوئے ہیں ایسی تفسیریں اگر عوام پڑھیں تو عملی واعتمادی اعتبار سے ان کے گمراہ ہوجانے کا قوی اندیشہ رہتا ہے، اگر کوئی شخص معتبر علماء کی تفسیریں پڑھے اور کسی معتبر عالم کی نگرانی میں پڑھے تو یہ مستحسن ہے۔ (۲) جماعت کے اعمال میں ہفتہ واری اجتماع میں حکایت الصحابہ کی تعلیم بھی داخل ہے؛ اس لیے وہ ایسا کرتے ہیں نہ یہ کہ وہ تفسیر کے قائل نہیں ہیں۔ (۳) چارمہینے لگانا ضرور ی نہیں ہے؛ البتہ چار مہینے کسی جز کو مسلسل اصول کے موافق کرنے سے آدمی اس کا خوگر اور عادی بن جاتا ہے، ۴/ مہینے کی تشکیل کرتے ہیں تاکہ آدمی نماز دعوت ودیگر امورِ خیر کا عادی بن جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند