• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 39448

    عنوان: سائنسی تحقیق سے زمین کا گول ہونا تحقیقی اور قطعی طور پر ثابت ہوچکا ہے

    سوال: کیا قدیم جمہور علماء کی بات صحیح نہیں ہے ؟ جیسے کہ تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کے سورہ :۰ میں ذکر ہے کہ زمین ہموار بچھی ہوئی ہے۔یہ ہموار ہے اور اس بات پر جمہور علماء کا اتفاق ہے اور یہ گول نہیں ہے، یا پھر وہ بھی اس لیے اسے ہموار کہتے تھے کہ جس آیت سے اس کا ہموار ہونا معلوم ہوتا ہے وہ ہمارے دیکھنے کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے، کیا سیوطی کے دور کے جمہور علماء زمین کو گول نہیں سمجھتے تھے؟ اس لیے سیوطی نے کہا ہے کہ یہ گول نہیں ہے ؟

    جواب نمبر: 39448

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 872-874/N=10/1433 علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے زمین کے گول ہونے کی جو نفی کی ہے، یہ متقدمین علما کے نزدیک متفق علیہ نہیں ہے، امام رازی رحمہ اللہ نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ زمین گول ہے لیکن بڑی ہونے کی وجہ اس کا ہرٹکڑا مسطح اور ہموار نظر آتا ہے اور اسی اعتبار سے قرآن نے اس کے متعلق سُطِحَتْ ارشاد فرمایا ہے، اور بعض علماء نے تو زمین کے گول ہونے پر اجماع نقل کیا ہے (حاشیة جلالین، ص: ۴۹۸) اور اب تو سیکڑوں بلکہ ہزاروں بار مشاہدات سے زمین کا گول ہونا تحقیقی اور قطعی طور پر ثابت ہوچکا ہے اس لیے علامہ سیوطی اور ان کے ہم خیال علما کی بات صحیح نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند