• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 18554

    عنوان:
    کارپیٹ پر نماز، قرآن کا بوسہ

    سوال:

     میں مغربی ممالک میں ایک نئے عام رجحان یعنی گھر میں کارپیٹ (فرش) پر نماز پڑھنے کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں ۔ میں آسٹریلیا میں رہتی ہوں۔ نیز جب ہم کسی اور کے گھر جاتے ہیں تو ہم کو سو فیصد اس کی پاکی یا ناپاکی کا یقین نہیں ہوتا ہے؟ کیا زیادہ احتیاط کرنا اور اس پر نماز نہ پڑھنا (بلکہ جانماز پر نماز پڑھنا ) وہم یا شیطانی دھوکہ ہے ۔ (۲) کیا قرآن کو بوسہ لیناصحیح ہے یا بدعت ہے؟ (۳) کیا میں اور بچے بغیر وضو کے قاعدہ پڑھ سکتے ہیں ؟

    جواب نمبر: 18554

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 52=52-1/1431

     

     ناپاکی کے شبہ کے لیے بھی کسی سبب کی ضرورت ہے اور بغیر سبب کے فرش وغیرہ کی ناپاکی ذہن میں متصور ہو تو وہ وہم ہے،جس کو معتبر مان کر ناپاک قرار دینا یا مشکوک سمجھنا درست نہیں، آپ اپنے ساتھ اپنی جانماز رکھا کریں اور اس پر نماز پڑھنے کا اہتمام کیا کریں اور جو عورت بغیر جانماز پڑھ لے اس سے کچھ تعرض نہ کیا کریں، نہ اس نماز کو فاسد سمجھا کریں تو فی نفسہ اتنی بات میں کچھ مضائقہ نہیں۔

    (۲) کبھی کبھار غلبہٴ جذبہٴ محبت میں اور وہ بھی تنہائی میں ہوجائے تو حرج نہیں تاہم اس کو باقاعدہ کوئی شرعی حکم سمجھ کر یا شرعی حکم کے درجہ میں رکھ کر دیگر لوگوں کے روبرو بوسہ لینے کی عادت نہ بنائی جائے ورنہ یہ عمل حدودِ بدعت میں داخل ہوجائے گا۔

    (۳) نابالغ چھوٹے بچوں کے حق میں تو بہت گنجائش ہے، آپ بھی اگر پڑھ لیں یا پڑھالیں تو کچھ حرج نہیں، البتہ قاعدہ میں جہاں جہاں قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ لکھی رہتی ہیں بے وضو ہونے کی حالت میں اُن اُن مواقع میں چھونے سے احتیاط رکھا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند