• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 131057

    عنوان: سورۂ تحریم کی آیت کے متعلق سوال

    سوال: میں امام سیوطی (رحمتہ اللہ علیہ) کی سورة تحریم کی تفسیر پڑھ رہاتھا، آپ نے تفسیر میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جب کہ وہ گھر میں نہیں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مباشرت کے واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل سے ناراض تھیں، کیوں کہ ان کے گھر میں ان کے بستر پر اور ان کی باری میں یہ واقعہ پیش آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا اس کا ذکر عائشہ سے متکرنا اور میں کبھی دوبارہ ماریہ کے پاس نہیں جاؤں گا، اس لےک سورة تحریم کی پہلی آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالی نے کہا کہ جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے نبی نے اپنی ازواج کو خوش رکھنے کی خاطر منع کیوں کیا۔کچھ اور تحقیق کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اکثر علماء حضرت ماریہ کے واقعہ کے بجائے جو کہ زیادہ مستند ہے، شہد کے واقعہ کی حمایت کرتے ہیں۔ جب کہ ابن حجرلکھتے ہیں کہ ماریہ کا واقعہ صحیح ہوگا کیوں کہ اس کا ذکر بہت ساری احادیث میں آیا ہے،حتی کہ سیدنا عمر، ابن عباس اور ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہم) نے اس کا ذکر کیا ہے، اس لیے یہ جھوٹا واقعہ نہیں ہوسکتاہے۔ میرے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ کے گھر یہ تعلق کرسکتے ہیں؟ یہ بات ٹھیک ہے کہ ماریہ رضی اللہ عنہا ایک جائز باندی تھیں، لیکن حفصہ کے گھر میں ان کے علم کے بغیر اس واقعہ کا پیش آنا بیوی کی خلوت کا لحاظ نہ رکھنا معلوم ہوتاہے،یہ میری بات میری سمجھ سے باہر ہے ،اس لیے کہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے خلاف جارہا ہے۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 131057

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1137-211/D37=2/1438
    اگر چہ حافظ ابن حجر نے سیاق و سباق کی طرف دیکھتے ہوئے ماریہ والے واقعہ کو راجح قرار دیا ہے لیکن بخاری وغیرہ کی صحیح روایات میں شہد والا واقعہ وارد ہوا ہے، ماریہ والا واقعہ صحیح روایات میں نہیں ہے جیسا کہ علامہ قرطبی نے فرمایا: أصح ہذہ الأقاویل أوّلہا (قصة العسل) ․․․․․․ وأما ماروی أنہ حرم ماریة القبطیة فہو أمثل في السند وأقرب إلی المعنی لکنہ لم یدون في الصحیح وروی مرسلاً (تفسیر قرطبی: ۱۸/ ۱۷۹، ط: دارالکتب المصریہ) لہٰذا صحیح روایت یعنی شہد والے واقعہ کو ترجیح ہوگی یعنی ماریہ والا واقعہ جو بعض روایات میں ہے اس کی بنا پر بھی کوئی اشکال نہیں اور نہ اس سے آپ علیہ السلام کے تقدس میں کوئی حرف آتا ہے کیونکہ مکان آپ علیہ السلام کا تھا نہ کہ حضرت حفصہ کا؛ نیز باندی کے لیے باری مقرر نہیں ہوتی لہٰذا آپ علیہ السلام جب چاہیں جس مکان میں چاہیں اپنی باندی سے استمتاع کرسکتے ہیں پھر بھی حضرت حفصہ کی ناگواری دور کرنے کے لیے اور ان کو خوش کرنے کے لیے ماریہ کواپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے شفقةً آپ علیہ السلام کو تنبیہ فرمائی کہ آپ حلال چیز کو حرام کرکے اپنے آپ کو کیوں مشقت میں ڈال رہے ہیں، ایسا نہ کیجئے، اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند