• عقائد و ایمانیات >> قرآن کریم

    سوال نمبر: 11937

    عنوان:

    سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سجود القرآن کے بارے میں فرمایا جو صحیح بخاری حدیث نمبر 1077میں ہے کہ [فمن سجد فقد اصاب و من لم یسجد فلا اثم علیہ]۔ جس نے سجدہ کیا اسے ثواب اور جو نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ جب کہ دیوبندی حضرات کہتے ہیں کہ سجود القرآن واجب ہے اورنہ کرنے والا سخت گنہ گار ہے۔ وضاحت فرماویں۔

    سوال:

    سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سجود القرآن کے بارے میں فرمایا جو صحیح بخاری حدیث نمبر 1077میں ہے کہ [فمن سجد فقد اصاب و من لم یسجد فلا اثم علیہ]۔ جس نے سجدہ کیا اسے ثواب اور جو نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ جب کہ دیوبندی حضرات کہتے ہیں کہ سجود القرآن واجب ہے اورنہ کرنے والا سخت گنہ گار ہے۔ وضاحت فرماویں۔

    جواب نمبر: 11937

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 726=726/م

     

    حدیث مذکور سے عدم وجوب پر استدلال صریح نہیں ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے سجدہ کیا اس نے سنت کو پالیا اور جس نے علی الفور سجدہ نہیں کیا تو تاخیر کی وجہ سے کوئی گناہ اس پر نہیں، اس سے مطلقاً وجوب کی نفی لازم نہیں آتی اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مواقع سجود میں سجدہ کرنا تواتر سے ثابت ہے، پس اس پر کوئی اشکال نہیں: أما قولہ فلا إثم علیہ فلا یدل علی عدم الوجوب لأنہ یحتمل أنہ لیس علی الفور فلا یأثم بتأخیرہ، فلا یلزم من ذلک عدم الوجوب وکذا قولہ لم یسجد عمر رضی اللہ عنہ یحتمل الخ․․․ ومما یوکد ما قلنا قولہ فمن سجد فقد أصاب أي أصاب السنة، وقد تواترت الأخبار عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالسجدة في مواضع السجود في القرآن․․․ (حاشیہ بخاري)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند