• متفرقات >> تصوف

    سوال نمبر: 2556

    عنوان:

    کیا بیعت ہونے کے لیے جو چار سلسلے ہیں انہی سے جڑا جائے یا پھرکسی بھی اللہ کے نیک بندے سے بیعت ہوسکتے ہیں؟ کیا علمائے اکابرین دیوبند کسی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے( مولانا زکریا وغیرہ (رحمة اللہ علیہم) اور مجھے مولانا وصی اللہ خان( فتح پور) کے بارے میں معلوم کرناہے کہ ان کا تعلق کس سے تھا۔ میں ان کا نام دارالعلوم دیوبند کے مشائخ میں پڑھا ہے۔ (۲) کیا کسی بھی سلسلے کے ایک سے زائد شیخ ہو سکتے ہیں؟ صرف نقشبندیہ اور نقشبندیہ اویسہ میں کیا فرق ہے؟ کیا عورتیں اپنے شیخ کے سامنے آسکتی ہیں؟ برقعے میں اس کے بغیر؟

     

    سوال:

    کیا بیعت ہونے کے لیے جو چار سلسلے ہیں انہی سے جڑا جائے یا پھرکسی بھی اللہ کے نیک بندے سے بیعت ہوسکتے ہیں؟ کیا علمائے اکابرین دیوبند کسی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے( مولانا زکریا وغیرہ (رحمة اللہ علیہم) اور مجھے مولانا وصی اللہ خان( فتح پور) کے بارے میں معلوم کرناہے کہ ان کا تعلق کس سے تھا۔ میں ان کا نام دارالعلوم دیوبند کے مشائخ میں پڑھا ہے۔ (۲) کیا کسی بھی سلسلے کے ایک سے زائد شیخ ہو سکتے ہیں؟ صرف نقشبندیہ اور نقشبندیہ اویسہ میں کیا فرق ہے؟ کیا عورتیں اپنے شیخ کے سامنے آسکتی ہیں؟ برقعے میں اس کے بغیر؟

    جواب نمبر: 2556

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1171/ ج= 1164/ ج

     

    ہندوستان میں صوفیائے کرام کے یہی چاروں سلسلے رائج ہیں۔ اکابر علمائے دیوبند انھیں چاروں سلسلے سے جڑے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا محمد زکریا اور حضرت مولانا شاہ وصلی اللہ صاحب انھیں چاروں سلسلہ میں داخل تھے اور انہی سلسلوں میں بیعت فرماتے تھے، مولانا زکریا صاحب اور حضرت وصی اللہ فتح پوری انہی سلسلوں میں اپنے کو شمار کرتے تھے اور بلاشبہ یہ حضرات دارالعلوم دیوبند کے مشائخ میں تھے۔ حضرت مولانا زکریا صاحب، حضرت شاہ خلیل احمد سے منسلک تھے اور حضرت وصی اللہ صاحب براہ راست حضرت تھانوی کے خلفاء میں تھے۔

    (۲) جی ہاں ہوسکتے ہیں۔نقشبندیہ اور اویسیہ میں فرق کسی صاحب نسبت سے معلوم کریں۔ *

    عورتوں کو اپنے مرشد کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے، غیرمحرم کے لیے پردہ ضروری ہے۔ اسلام کا حکم یہی ہے۔

    _____________________________________________________

    * بعض مشائخ ایسے ہوئے ہیں جن کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل ہوا ہے، سلسلہ کے اصل شیخ سے زیادہ نہیں ہوا۔ جیسے اویس قرنی رحمة اللہ علیہ کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض غائبانہ حاصل ہوا تھا، اسی لیے ان بزرگوں کو اویسی نسبت والا بزرگ کہتے ہیں اور ان کی نسبت اویسی کہلاتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند