• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 607180

    عنوان:

    دیوبندی مسلک کے بارے میں ایک سوال

    سوال:

    سوال : مجھے نہیں پتا کہ میرا مسلک کیا ہے ۔ لیکن میں اپنے آپ کو دیوبندی کے قریب پاتا ہوں۔ الحمداللہ میں مسلمان ہوں مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔بدعت والا کام نہیں کرتا۔ نماز پڑھتا ہوں۔ روزانہ کچھ تلاوت کرتا ہوں۔ میں سب کی مسجدوں میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔ نماز کے وقت جو قریب ملے ۔ مسلک کیوں ضروری ہے ؟ کیا اللہ مسلک کے حساب سے سزا جزا دے گا؟ میرا مسلک وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔

    جواب نمبر: 607180

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 348-79T/D=04/1443

     (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی گذارنے اور آخرت میں اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ صحابہ کرام کا طریقہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجات یافتہ ہونے کی بشارت دی اور اس طریقہ کی نشاندہی ”ما انا علیہ واصحابی“ کے الفاظ سے فرمائی۔ بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کا طریقہ اپنانے والے اہل السنة والجماعة کے نام سے موسوم ہوئے۔ ”دیوبندی“ کوئی مسلک نہیں ہے؛ بلکہ آخری دور میں ”علماء دیوبند“ اہل سنت والجماعت کے طریقے کو اختیار کرنے والی جماعت تھی۔ پس خاص پس منظر میں عوام و خواص انھیں دیوبندی کہنے لگے ورنہ درحقیقت یہ اہل سنت والجماعت کا ہی گروہ ہے۔ آپ بھی ان علماء کے طریقے کو پسند کرتے اور اختیار کرتے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے نماز کا اہتمام تلاوت و ذکر کی پابندی بدعات سے نفرت اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و اتباع مشائخ کاملین (بزرگان دین) سے عقیدت و محبت اہل سنت والجماعت کا شعار ہے اور حضرات علماء دیوبند باحسن وجوہ ان باتوں کے ماننے اور اختیار کرنے والے ہیں۔

    (۲) فقہی مسائل کے اعتبار سے چار امام ممتاز و معروف ہیں: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، جنہوں نے عبادات معاملات، نکاح و طلاق کے سلسلے میں قرآن و حدیث سے مسائل نکال کر احکام بیان کئے ہیں ایسے احکام میں کسی ایک امام کی تقلید اور پیروی ضروری ہوتی ہے اس تقلید کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا مطلب سمجھ کر جو تفصیل امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بیان کی ہے ہم ان کی بیان کردہ تشریح کے مطابق عمل کرتے ہیں جو شافعی مسلک کو اختیار کرتا ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی بیان کردہ تشریح کے مطابق عمل کرتا ہے۔ تقلید یعنی کسی امام کا مسلک اختیار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آیات قرآنی اور ان سے نکلنے والے سارے احکام اسی طرح تمام احادیث معنویہ اور ان سے نکلنے والے احکام و مسائل میں ہر شخص کو مہارت حاصل نہیں ہوسکتی پس وہ اپنے سے بڑے عالم کے بتائے ہوئے مطلب کی پیروی کرے گا جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فاسألوا أہل الذکر إن کنتم لاتعلمون جاننے والوں سے معلوم کرو اگر تم نہیں جانتے۔

    ائمہ کی تقلید صرف تین قسم کے مسائل میں کی جاتی ہے اور ان میں تقلید کے بغیر چارہ نہیں، باقی شریعت میں کسی امام کی تقلید نہیں کی جاتی، اللہ اور اس کے رسول ہی کی پیروی کی جاتی ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے چند اہم عصری مسائل: 1/36، علمی خطبات مفتی سعید احمد پالن پوری: 1/96، کا مطالعہ مفید ہوگا)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند