• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 606004

    عنوان:

    چاروں اماموں کے مسلک پر عمل کرنا؟

    سوال:

    جناب محترم ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ سرف ایک امام کی قیادت کرنا چاہیے وہیں درست ہے۔ جب کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی اتبا کرنا لازمی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب چاروں امام حق ہیں تو چاروں اماموں کی قیادت کیوں نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وبرکاتہ کے مسلک کو مانتا ہوں۔لیکن مجھکو ضروری کام پر جانا ہے اور اس دوران مجھے عصر کی نماز کا وقت نہیں ملیگا تو تو میں عصر کی نماز امام شافعی رحمہ اللہ وبرکاتہ کے وقت پر ادا کر تا ہو تو کیا میری نماز ادا ہوگی کہ نہیں۔اسی طرح کے اور مسلے ہیں۔ میں نے ایک حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ دینیی مثلہ میں آسان چیز کو اختیار کرنے کاحکم دیا۔

    جواب نمبر: 606004

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 60-50/H=01/1443

     بیک وقت تو چاروں کے مسلک پر عمل ہو نہیں سکتا مثلاً جسم سے خون کا نکلنا ایک امام مجتہد کے نزدیک قرآن و حدیث کی روشنی میں ناقض وضوء ہے دوسرے امام مجتہد کے نزدیک ناقض وضوء نہیں ہے اگر کسی شخص کے جسم سے خون نکلا تو اسے کیا حکم دیا جائے گا؟ وہ شخص وضوء کرے یا نہ کرے؟ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کسی وقت ایک امام کی تقلید کو اختیار کروں گا اور دوسرے وقت دوسرے کی تقلید کرلوں گا تو اس سے تشہّی یعنی نفس پرستی کا دروازہ کھلتا ہے مثلاً ایک شخص نے وضوء کیا اور اس کے جسم سے خون نکل گیا اس سے کہا گیا وضوء کرو اس نے کہا میں اس مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا مقلد ہوں ان کے نزدیک نہیں ٹوٹتا پھر اس نے مسّ مرأة کرلیا (کسی عورت کو چھو لیا) اس سے کہا گیا کہ وضوء کرو اس لئے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مسّ مرأة ناقض وضوء ہے اُس نے کہا میں اس مسئلہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا مقلد ہوں ان کے نزدیک اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا ایسی حالت میں اگر یہ بغیر وضوء کئے نماز پڑھے گا تو کسی کے نزدیک بھی اس کی نماز درست نہ ہوگی پھر اس کا نفس ذرا ذرا سے بہانوں سے پٹری بدلنے کا حکم دے گا مثلاً تقلید کرتے تھے امام شافعی رحمہ اللہ کی اور وضوء کے بعد بیوی کو چھو لیا سردی کا زمانہ ہے سوچا کہ چلو آج امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اس مسئلہ میں تقلید اختیار کئے لیتے ہیں یہ شریعت اور دین پر تو عمل نہ ہوگا؛ بلکہ ہواوٴ ہوس کا اتباع ہوجائے گا اور عجب نہیں کہ حضراتِ ائمہ مجتہدین کی تقلید سے آزاد ہوکر نام کے مسلمانوں کے اقوال کی تلاش میں لگ جائے گا نام کے مسلمانوں کا قول تو یہ بھی مل جائے گا کہ غسل جنابت واجب نہیں یہ بھی مل جائے گا کہ پانچ وقت کی نمازیں فرض نہیں یہ بھی قول نام کے مسلمانوں کا مل جائے گا کہ ضروریاتِ دین کا انکار کفر نہیں۔ الغرض اس راستہ سے دین و ایمان ہی رخصت ہوجائے گا محض سن سناکر آسانیاں تلاش نہ کریں؛ بلکہ مستند و معتبر اہل فتویٰ کی طرف مراجعت عملی راستہ اختیار کریں یہی راہِ اعتدال ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند