• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 602199

    عنوان:

    كسی نے اگر اعضا كو بطور عطیہ دینا جائز كہا ہو تو حنفی كے لیے اس پر عمل كرنا كیسا ہے؟

    سوال:

    سوال : اپنی اعضاء کو بطور عطیہ دینا چاروں فقہ کی رو سے جائز ہے ؟ اگر کسی نے جائز کہا ہو تو حنفی کا اس پر عمل کرنا جائز ہوگا؟ جدہ فقہ اکیڈمی اور ہمارے بعض علماء دیوبند کا اس کو جائز قرار دینا درست و صحیح ہے ؟ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 602199

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 390-342/M=06/1442

     یہاں دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے فقہ حنفی کے مطابق جواب دیا جاتا ہے، دوسرے ائمہ کرام کی فقہ کو جاننے کے لئے اسی مسلک کے علماء یا ادارے سے رجوع کرنا چاہئے۔ آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ انسانی اعضاء کا عطیہ ناجائز ہے کیونکہ انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہے، اس لیے اس میں مالکانہ تصرف (عطیہ، وصیت وغیرہ) درست نہیں۔ جن حضرات نے اس کو جائز کہا ہے اس کے دلائل اُن سے معلوم کریں، ہمارے نزدیک تو عدم جواز راجح ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند