• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 36799

    عنوان: سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ، رفع یدین، جلسہ استراحت

    سوال: مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع جاتے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرنا بیان کیا ہے ( صحیح بخاری)۔ ہم اپنے علماء سے سنتے آئے ہیں کہ یہ رفع یدین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی دور میں کیا تھا۔ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ استراحت (یعنی طاق رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر بیٹھنا) بھی بیان کیا ہے۔ ( صحیح بخاری) ہم نے اپنے علماء سے سنا ہے کہ یہ فعل(یعنی طاق رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر بیٹھنا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں بڑھاپے کی وجہ سے کیا تھا۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے فرمایا ہے کہ مالک بن حویرث کل بیس روز تک نبی علیہ الصلاة و السلام کی خدمت میں رہے۔ (بخاری ج ص ) (خزائن السنن ص )۔سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کل بیس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے ہیں اور انہی بیس دنوں میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین اور جلسہ استراحت کرتے ہوئے دیکھا۔ہم ایک عمل کو ابتدائی دور کا عمل اور دوسرے عمل کو آخری دور کا عمل کہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے ؟

    جواب نمبر: 36799

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 431=228-3/1433 یہ بات صحیح ہے کہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین ابتدائی دور میں کیا تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ احادیث کا جائزہ لینے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ شروع شروع میں سات جگہوں پر رفع یدین کیا جاتا تھا (۱) صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ۔(۲) رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت (۳) سجدے میں جاتے وقت (۴) دونوں سجدوں کے درمیان (۵) دوسری رکعت کے شروع میں (۶) تیسری رکعت کے شروع میں (۷) ہراونچ نیچ پر، مذکورہ سات جگہوں میں سے پانچ جگہوں میں قائلین رفع بھی تسلیم کرتے ہیں کہ رفع یدین منسوخ ہوگیا، نیز روایات کا جائزہ لینے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پہلے نماز میں بہت سی چیزیں جائز تھیں جو بعد میں منسوخ کردی گئیں، پہلے نماز میں سلام کا جواب دینا بھی جائز تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نماز کے سکون کے منافی قرار دیا، دوسری طرف دوامِ رفع کی کوئی دلیل نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ہرنماز میں رفعِ یدین کیا ہو، اور ترک رفع کے بہت سے دلائل ہیں اسی وجہ سے خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ بھی ترکِ رفع کے قائل تھے۔ کما في إعلاء السنن اور امام مالک رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے سوا نماز کی کسی تکبیر میں میں رفع یدین نہیں جانتا نہ کسی جھکنے کے موقع پر اور نہ کسی اٹھنے کے موقع پر (مدونہ کبری: ۱/۷۱) اور کوفہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عساکر اسلام کی چھاوٴنی تھا، جس میں دیڑھ ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم فروکش ہوئے اس میں ہمیشہ تمام فقہاء وعلماء ترکِ رفیع دین پر عمل پیرا رہے، تفصیل کے لیے دیکھیں ”اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم“: ۳۲۰۔ اورجلسہٴ استراحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں بڑھاپے کی وجہ سے کیا تھا، یہ بات بھی صحیح ہے؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بڑھاپے سے پہلے جلسہٴ استراحت نہ کرنا تھا، چنانچہ حضرت ابن مسعود، حضرت علی، حضرت ابوہریرہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے پیروں کے بل کھڑے ہوتے تھے: عن أبي ہریرة وعن ابن مسعود: أنہ کان ینہض في الصلاة علی صدور قدمیہ ولم یجلس أخرجہ ابن أبي شیبہ وأخرج نحوہ عن علي وکذا عن ابن عمر وابن الزبیر، وفي فتح القدیر: فقد اتفق أکابر الصحابة الذین کانوا أقرب إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أشد اقتفاء لأثرہ من مالک بن الحویرث علی خلاف ما قال فوجب تقدیمہ فیحمل ما رواہ علی حالة الکبر․ ”فتح القدیر: ۱/۳۱۴-۳۱۵، زکریا“ مذکورہ بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رفع یدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدائی دور کا عمل تھا، پھر بعد میں منسوخ ہوگیا۔ اور جلسہٴ استراحت آخری دور کا عمل تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے کی وجہ سے کیا تھا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند