• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 296

    عنوان:

    اہل حدیث کہتے ہیں کہ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر میرا طریقہ قرآن و سنت کے خلاف ہو تو اسے دیوار پر ماردو۔ تو شافعی مذہب میں بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حنفی مذہب میں نہیں ٹوٹتا، اور ابو داؤد کی حدیث ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا اور اس کے بعد بغیر وضو کیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ تو کیا شافعی فتوی حدیث کے خلاف نہیں؟ تو پھر اسے دیوار پر کیوں نہیں مارتے؟

    سوال:

    اہل حدیث کہتے ہیں کہ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر میرا طریقہ قرآن و سنت کے خلاف ہو تو اسے دیوار پر ماردو۔ تو شافعی مذہب میں بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حنفی مذہب میں نہیں ٹوٹتا، اور ابو داؤد کی حدیث ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا اور اس کے بعد بغیر وضو کیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ تو کیا شافعی فتوی حدیث کے خلاف نہیں؟ تو پھر اسے دیوار پر کیوں نہیں مارتے؟

    جواب نمبر: 296

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 430/ب=433/ب)

     

    ائمہٴ اربعہ میں سے کسی کا طریقہ بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہے، یہ اعتراض اہل حدیث کی طرف سے ان کی لاعلمی کی وجہ سے ہے، ہرامام کے اصول اجتہاد علیحدہ علیحدہ ہیں جو اپنی جگہ مصرح ہیں۔ اگر ان کا علم ہوجائے تو ہم کسی کے قول کو قرآن وحدیث کے خلاف نہیں کہیں گے۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے عورت کا بوسہ لینے پر وضو کو ٹوٹ جانے کا جو حکم فرمایا ہے وہ حدیث سے نہیں بلکہ آیت قرآنی اَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَآءَ سے نکالا ہے لاَمَسْتُمُ النِّسَآءَ میں جو دوسری قراء ة لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ آئی ہے، اس سے یہ حکم نکالا ہے۔ یعنی مسّ مرأة سے بھی ان کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس طرح مجامعت سے ٹوٹ جاتا ہے، ملاحظہ ہو سورہٴ نسا، آیت: ۴۴۔ مزید وضاحت کے لیے کسی شافعی عالم و مفتی کی طرف رجوع فرمائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند