• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 2871

    عنوان:

    جب مجھآ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو میں جس سے جواب پوچھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ مجھے قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب دو، یعنی میں یہ نہیں کہتا کہ حنفی یا شافعی مذہب کی رو سے جواب دو، کیا یہ طریقہ صحیح ہے۔

    سوال:

    جب مجھآ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو میں جس سے جواب پوچھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ مجھے قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب دو، یعنی میں یہ نہیں کہتا کہ حنفی یا شافعی مذہب کی رو سے جواب دو، کیا یہ طریقہ صحیح ہے۔

    جواب نمبر: 2871

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1427/ب= 1257/ب

     

    یہ طریقہ صحیح نہیں ہے بلکہ یوں پوچھنا چاہیے کہ مجھے شرعی دلائل کی روشنی میں جواب مطلوب ہے، کیونکہ شرعی دلائل چار ہیں۔ قرآن و حدیث اجماع و قیاس، لہٰذا صرف قرآن و حدیث سے جواب چاہنا یہ اور دلائل کے نہ ماننے کے مرادف ہے۔ ساتھ ہی اپنے بارے میں حنفی یا شافعی ہونے کی وضاحت کردینا بھی ضروری ہے تاکہ مفتی مسائل کے مسلک کے مطابق جواب لکھ سکے۔ بعد میں اسے کوئی الجھن پیش نہ آئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند