• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 15027

    عنوان:

    سب ائمہ ٹھیک ہیں تو اتنے بڑے اختلاف کیوں ہیں۔ جس سے ایمان کے فاسد ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ مثلاً طلاق، نکاح کیسے ممکن ہے کہ طلاق ور نکاح میں اتنے بڑے اختلاف کے باوجود اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ ایک امام کے نزدیک نکاح والدین کی مرضی کے بنا جائز اور دورسے کے نزدیک ناجائز اور حرام (یعنی ایمان فاسد اور پوری زندگی گناہ) اگر لڑکا یا لڑکی بالغ دونوں جو والدین کی مرضی کے بنا نکاح کریں اور وہ دونوں میں سے ایک حنفی دوسرا شافعی مسلک کے پیروکار ہوں) اسی طرح طلاق ایک امام کے نزدیک تین طلاقیں ایک ہی وقت میں ہوجائیں اس کے بعد علاحدگی واجب جب کہ دوسرے امام کے نزدیک تین طلاقیں ایک وقت میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے، اس کی وجہ سے لوگ اپنی آسانی کے لیے اپنی مرضی کے ائمہ کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں ان ائمہ نے دین میں آسانی کے لیے شرعی مسائل بیان کیے، وہاں پر اختلافی مسائل دے کر مشکلات بھی پیدا کردی ہیں۔ جو جہنم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، برائے کرم مفتی صاحب آج کے دور میں ہم کیا کریں۔ نکاح اور طلاق کے بارے میں قرآن اور احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    سوال:

    سب ائمہ ٹھیک ہیں تو اتنے بڑے اختلاف کیوں ہیں۔ جس سے ایمان کے فاسد ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ مثلاً طلاق، نکاح کیسے ممکن ہے کہ طلاق ور نکاح میں اتنے بڑے اختلاف کے باوجود اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ ایک امام کے نزدیک نکاح والدین کی مرضی کے بنا جائز اور دورسے کے نزدیک ناجائز اور حرام (یعنی ایمان فاسد اور پوری زندگی گناہ) اگر لڑکا یا لڑکی بالغ دونوں جو والدین کی مرضی کے بنا نکاح کریں اور وہ دونوں میں سے ایک حنفی دوسرا شافعی مسلک کے پیروکار ہوں) اسی طرح طلاق ایک امام کے نزدیک تین طلاقیں ایک ہی وقت میں ہوجائیں اس کے بعد علاحدگی واجب جب کہ دوسرے امام کے نزدیک تین طلاقیں ایک وقت میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے، اس کی وجہ سے لوگ اپنی آسانی کے لیے اپنی مرضی کے ائمہ کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں ان ائمہ نے دین میں آسانی کے لیے شرعی مسائل بیان کیے، وہاں پر اختلافی مسائل دے کر مشکلات بھی پیدا کردی ہیں۔ جو جہنم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، برائے کرم مفتی صاحب آج کے دور میں ہم کیا کریں۔ نکاح اور طلاق کے بارے میں قرآن اور احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 15027

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1768=1429/ھ

     

    حضرات ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے مابین جو کچھ مسائل میں اختلاف ہے، اس کی بہت ساری وجوہات ہیں وہ اختلاف ناگزیر ہے اور قیامت تک رہے گا، اہل حق کا اختلاف ایسا ہے کہ جیسا ایک درخت کی شاخوں کا اختلاف ہے، اور یہ اختلاف ٹھوس دلائل پر مبنی ہے، اور امت کے حق میں رحمت ہے، کلام اس پر قدرے طویل ہے ۔ [الاعتدال فی مراتب الرجال المعروف بہ اسلامی سیاست] (اردو) میں اس سلسلہ میں مدلل عمدہ انداز سے کلام کیا گیا ہے، اس میں ملاحظہ کرلیں، فتویٰ میں بہت تفصیل عامةً نہیں لکھی جاتی ہے، عامہٴ مسلمین کو اگر جہنم سے بچنے کی فکر لاحق ہوجائے اورہرمسلمان کو ہونی ہی چاہیے تو اللہ پاک نے اس کا انتظام فرمادیا ہے اور یہ ہے کہ اختلاف امت میں پڑنے یا اپنے آپ کو گھلانے کے بجائے اپنے عمل کو درست کرنے کے لیے اہل علم اصحابِ فتویٰ حضرات سے رجوع کرکے عمل کرلیا کریں، ان کے حق میں اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے اتنی مقدار کافی ہے کہ شریعت مطہرہ پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کوحرزِ جان بنائے رکھیں، اختلاف ائمہ میں اپنے نفسانی جذبات وخواہشات کی تکمیل کے لیے بہانے تلاش نہ کریں، کہ یہ حالت بہت بری ہے اور دینی معاملات میں اور زیادہ قبیح ہے، نصوص کثیرہ اس حالت کی قباحت وشناعت پر دالّ ہیں۔ حضرات ائمہ مجتہدین وسلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ رحمة واسعہ نیز علمائے امت نے امت کومشکلات سے نکالنے اور دنیا و آخرت کی پریشانیوں سے تحفظ فراہم کرنے میں انتھک کوشش صرف کی ہے اور کرتے رہتے ہیں، آپ کو کسی نے الٹا سمجھادیا یا خود آپ نے الٹا سمجھ لیا ہے باقی کچھ لوگ اپنے آپ کو مشکلات میں پھانس لینے کا پختہ ارادہ کیے ہوئے بیٹھے ہوں، اس کا تو علاج کسی کے پاس ہے نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند