• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 1482

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ دیوبند ی مسلک امام ابو حنیفہ رحمةاللہ علیہ کومانتے ہیں اورامام صاحب کے قول کو حتمی سمجھتے ہیں۔ سوال یہ کہ ا گرصحیح حدیث مل جا ئے اور صحت کے ا عتبا رسے اچھے معیار پرہو لیکن امام کے قول سے ٹکرا تی ہوتو آیا حدیث پر عمل ہو گا یا امام کے قول پر؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ دیوبند ی مسلک امام ابو حنیفہ رحمةاللہ علیہ کومانتے ہیں اورامام صاحب کے قول کو حتمی سمجھتے ہیں۔ سوال یہ کہ ا گرصحیح حدیث مل جا ئے اور صحت کے ا عتبا رسے اچھے معیار پرہو لیکن امام کے قول سے ٹکرا تی ہوتو آیا حدیث پر عمل ہو گا یا امام کے قول پر؟

    جواب نمبر: 1482

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 465/د = 461/د)

     

    یہ بات تو خود امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے صراحةً منقول ہے : إذا صح الحدیث فھو مذھبي کوئی ایسی صحیح حدیث بتلائیں جو غیرمنسوخ او رغیر متعارض ہو اور امام صاحب رحمةاللہ علیہ کا عمل اس کے خلاف ہو۔ امام صاحب رحمة اللہ علیہ نے جو باتیں فرمائیں ہیں یا تو آیاتِ قرآنیہ سے مستنبط ہیں تو آیات کی ترجیح حدیث پر ظاہر ہے یا متعارض احادیث میں اصول ترجیح کی بنا پر کسی ایک حدیث کو ترجیح دیدیا ہے اور دوسری حدیث کا محمل بتلادیا، اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل ہوگیا، اس کے برخلاف طریقہ یہ ہے کہ ایک حدیث کو اختیار کرلیا جائے اور دوسری حدیثوں سے صرف نظر کرلیا جائے۔ اور اصول ترجیح کا طریقہ تو دوسرے ائمہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ وجہ ترجیح کبھی صحابہ کرام میں فقہائے صحابہ کے آثار یا خلفائے راشدین کے فیصلے بھی بن جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حدیث کے مقابلے میں امام کا قول نہیں ہے بلکہ دوسری حدیث یا آیتِ قرآنی ہے اس کو بھی عمل بالحدیث اور عمل بالقرآن کہیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند