• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 1265

    عنوان:

    میں مسلمان ہوں اور حنفی مکتب فکر پر عمل پیرا ہوں۔ میں اہل حدیث کی مسجد کے سامنے رہتا ہوں ۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ حدیث بتاؤ جس سے یہ ثابت ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ناف کے نیچے باندھا ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا جائز نہیں ہے۔ آپ اس سلسلے میں جواب عنایت فرمائیں، ممنون ہوں گا۔ میری رہ نمائی فرمائیں تاکہ میں ان کو جواب دے سکوں۔

    سوال:

    میں مسلمان ہوں اور حنفی مکتب فکر پر عمل پیرا ہوں۔ میں اہل حدیث کی مسجد کے سامنے رہتا ہوں ۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ حدیث بتاؤ جس سے یہ ثابت ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ناف کے نیچے باندھا ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا جائز نہیں ہے۔ آپ اس سلسلے میں جواب عنایت فرمائیں، ممنون ہوں گا۔ میری رہ نمائی فرمائیں تاکہ میں ان کو جواب دے سکوں۔

    جواب نمبر: 1265

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 372/د = 395/د)

     

    حنفیہ کے یہاں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے اور یہ حدیث سے ثابت ہے۔ جو اس کو ناجائز بتلاتا ہے وہ جھوٹا ہے حدیث صحیح کا منکر ہے عن علمة بن وائل بن حجر عن أبیہ -رضي اللہ عنہ- قال رأیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم وضع یمینہ علی شمالہ في الصلاة تحت السرة أخرجہ ابن أبي شیبة ورجالہ ثقات، قلت رجالہ رجال مسلم إلا موسی بن عمیر وھو ثقة من رجال النسائي وعلقمة بن وائل ابن حجر الکوفي من رجال مسلم ثقة صدوق اس کے علاوہ اور بھی متعدد روایات سے ناف کے نیچے رکھنا ثابت ہے، امام ترمذی -رحمہ اللہ- قبیصہ بن ہلب کی روایت جس میں بائیں ہاتھ کو داہنے ہاتھ سے صرف پکڑنے کا ذکر ہے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ورأی بعضھم أن یضعھما فوق السرة ورأی بعضھم أن یضعھما تحت السرة وکل ذلک واسع عندھم یعنی بعض حضرات کے نزدیک ناف سے اوپر رکھنے کا عمل ہے اور بعض حضرات کے نزدیک ناف کے نیچے اور اس مسئلہ میں (علماء و محدثین) کے یہاں وسعت ہے۔ نیز ابراہیم نخعی -رحمہ اللہ- پائے درجے کے محدث، فقیہ تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں یضع یمینہ علی شمالہ في الصلاة تحت السرة. کذا في إعلاء السنن، ج2 ص165)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند