• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 11963

    عنوان:

    چاروں اماموں کی اسلام میں کیا پوزیشن ہے؟ کیا ان چاروں اماموں کی تقلید ایک ہی وقت میں واجب ہے؟ کیا ہرامام کی پیروی میں اپنی مرضی سے ہوسکتی ہے، مثلاً جو بات آسان ہو اس کی تقلید کرلی جائے؟ اختلافی مسائل میں کس امام کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسلامی فقہ کی دین اسلام میں کیا پوزیشن ہے؟ اس پر عمل واجب ہے کیا؟ کسی اسلامی ملک میں آئین اور قانون کی کیا حیثیت ہے؟ سب سے بڑا امام کون ہے؟ کیا یہ ایک دوسرے کے استاذ شاگرد بھی ہیں؟

    سوال:

    چاروں اماموں کی اسلام میں کیا پوزیشن ہے؟ کیا ان چاروں اماموں کی تقلید ایک ہی وقت میں واجب ہے؟ کیا ہرامام کی پیروی میں اپنی مرضی سے ہوسکتی ہے، مثلاً جو بات آسان ہو اس کی تقلید کرلی جائے؟ اختلافی مسائل میں کس امام کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسلامی فقہ کی دین اسلام میں کیا پوزیشن ہے؟ اس پر عمل واجب ہے کیا؟ کسی اسلامی ملک میں آئین اور قانون کی کیا حیثیت ہے؟ سب سے بڑا امام کون ہے؟ کیا یہ ایک دوسرے کے استاذ شاگرد بھی ہیں؟

    جواب نمبر: 11963

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 514=471/ب

     

    جو لوگ اجتہاد کے شرائط اپنے اندر نہیں رکھتے ان کے لیے ائمہ مجتہدین کے استنباط کیے ہوئے مسائل مختلفہ میں چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے، جس امام کی تقلید اختیار کرے اخیر تک اسی امام کی تقلید واجب ہے، ایسا نہیں کہ جس امام کا مسئلہ آسان معلوم ہو اس کو اختیار کرے کیونکہ یہ شریعت کے ساتھ کھیل ہے، تماشا ہوگا، شریعت پر عمل نہ ہوگا۔ ان چاروں اماموں کی تقلید صرف اس لیے ہے کہ ان چاروں کے علاوہ ایسا کوئی مجتہد نہیں گذرا جن کے مسائل زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق جامع مسائل ملتے ہوں۔ شریعت اسلام کے چار اصول ہیں۔ قرآن، حدیث، اجماع، اور قیاس۔ ان چاروں اصول سے استنباط کئے مسائل کو فقہ کہتے ہیں۔ اس پر عمل کرنا ناگزیر ہے، اسلامی ملک میں کسی قانون کی حیثیت پوچھنا چاہتے ہیں؟ وہاں تو بہت سارے قوانین ہوتے ہیں؟ چاروں اماموں میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یہ حضرت امام شافعی کے شاگرد ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند