• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 69778

    عنوان: جعلی طلاق کے کاغذات تیار کرانا؟

    سوال: اگر عمر زید کو اپنے لیے جعلی طلاق کے کاغذات تیار کرنے کے لیے کہے تاکہ وہ اس کو دکھا سکے اور دوسری مرتبہ شادی کرسکے ، دھوکہ دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے آپ کو ملکی قانون سے بچانے کے لیے کرے جہاں وہ رہتاہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی؟ اگر طلاق ہوجائے گی تو کتنی ؟اور اس سے ایک طلاق ہوگی یا تین طلاق؟طلاق کب ہوگی ؟کاغذات تیار کرنے کے بعد یا یا آرڈر دیتے ہی ؟ اگر کوئی شخص اس نیت سے طلاق کے کاغذات پر دستخط کرتاہے کہ وہ کاغذات پراس ایک طلاق کے لیے دستخط کررہاہے جو اس نے پہلے دے رکھی ہے تو کیا اس سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟ اگر طلاق ہوجائے گی تو کتنی ؟جزاک اللہ

    جواب نمبر: 69778

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1477-1449/L=01/1438

    جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت اگر دو گواہ بنالے کہ میں جعلی طلاق نامہ تیار کرا رہا ہوں تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوگی فرضی طلاق نامہ تیار کراتے وقت یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے، اور اگر جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت گواہ نہیں بنائے تھے تو جعلی طلاق نامہ تحریر کرانے سے بھی طلاق واقع ہو جائے گی اور جتنی طلاق کا ذکر طلاق نامہ میں ہو اتنی طلاق واقع ہوگی، بشرطیکہ طلاق نامہ اس کے حکم سے تیار کیا گیا ہو یا اس نے پڑھ کر اس پر دستخط کیاہو، فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو طلاق نامہ لکھنے کا حکم کرے تو اس سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے اگر چہ لکھنے والا طلاق نامہ تحریر نہ کرے، ولو قال للکاتب: اکتب طلاق امرأتي کان إقراراً بالطلاق وان لم یکتب ۔ واضح رہے کہ کاغذات پر دستخط کرتے وقت اس نیت کا اعتبار نہ ہوگا کہ وہ اس طلاق کے لئے دستخط کر رہا ہے جو اس نے پہلے دے رکھی ہے الا یہ کہ اس پر پہلے سے دو گواہ بنالے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند