• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 69697

    عنوان: مطلقہ ثلثہ بیوی سے حلالہ شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرح متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی اور تین طلاق د ئیے ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے ۔کیا زید اب دوبارہ اپنی بیوی سے شادی کر سکتا ہے ؟ جب کہ اس کی مطلقہ بیوی نے اب تک کسی دوسرے شخص سے شادی بھی نہیں کی ہے تو کیا زید کے لئے یہ جائز ہوگا کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی جسے وہ تین طلاق دے چکا ہے شادی کرسکتا ہے ؟جب کہ ہم نے علماء کرام سے سنا ہے کہ جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرکے باضابطہ اس سے طلاق نہ لے لے اپنے پہلے شوہر سے شادی نہیں کرسکتی ہے جب کہ ہمارے یہاں کے ایک امام صاحب کا کہنا ہے کہ تین طلاق د ئیے ہوئے اگر تین سال گذر چکے ہیں تو عورت کی بغیر دوسری شادی کے پہلے شوہر سے شادی ہو سکتی ہے ۔ براہ کرم قرآن وحدیث اور شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔

    جواب نمبر: 69697

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1069-1082/M=11/1437 صورت مسئولہ کی تفصیل اگر درست ہے تو زید کے لیے اپنی مطلقہ ثلثہ بیوی سے حلالہ شرعی کے بغیر دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں، چاہے تین طلاق دئیے ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہو، حلالہ شرعی کی صورت یہ ہے کہ مطلقہ ثلثہ عورت عدت کے بعد (سابق شوہر کے علاوہ) کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلے اور دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد بخوشی طلاق دیدے یا بقضاء الٰہی انتقال کرجائے اور بہر دو صورت اس شخص کی عدت بھی گذر جائے اس وقت اگر سابق شوہر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، محض تین سال کا عرصہ گذر جانا زوج اوّل کے حق میں حلت کے لیے کافی نہیں، پس امام صاحب کی بات درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند