• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 68745

    عنوان: ایک نشست میں تین طلاق دینا

    سوال: (۱) میں نے اپنی بیوی سکینہ کو اپنی ماں بھائی اور بیوی کے والدین اور دو پڑوسیوں کی موجودگی میں اپنی پوری ہوش وحواس میں طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو ایک نشست میں تین طلاق دیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں احقر کو جواب مطلوب ہے۔ (۲) اس واقعہ کو ہوئے دو برس ہوچکے ہیں، اب ہم دونوں (ندیم اور سکینہ) ازدواجی تعلقات دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 68745

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 875-873/Sd=10/1437 صورت مسئولہ میں اگر آپ کو اقرار ہے کہ آپ نے اپنی بیوی مسماة” سکینہ“ کو ایک نشست میں تین طلاق دیدی، تو آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور بیوی مغلظہ بائنہ ہوگئی، اب حلالہ شرعی کے بغیر مطلقہ کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ”ومذہب جماہیر العلماء من التابعین ومن بعدہم منہم: الأوزاعي والنخعي والثوري، و أبو حنیفة وأصحابہ، ومالک و أصحابہ، والشافعي وأصحابہ، وأحمد و أصحابہ، و اسحاق و أبو ثور و أبو عبید وآخرون کثیرون علی أن من طلق امرأتہ ثلاثاً، وقعن؛ولکنہ یأثم“۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند