• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 66417

    عنوان: ”جانا یا ہاں جانا“ طلاق کے باب میں کنائی ہے۔

    سوال: گزارش عرض یہ ہے کہ میرے نکاح گزشتہ برس رمضان سے پہلے ہوا تھا ، مگر رخصتی ابھی تک نہیں ہوئی، گزشتہ برس رمضان میں میری منکوحہ نے کہا کہ تم عید بعد مجھے خلع دیں گے ، مگر میں نے انکار کر دیا، مگر کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کے اچھا عید کے بعد "ایک طلاق " دوں گا،لیکن پھر بھی میں نے منع کر دیا- مگر جب ہم گاڑی سے وہاں سے روانہ ہونے لگے تو درمیان راہ میری منکوحہ نے پھر کہا کہ عید کے بعد ایک طلاق دیں گے اور اس وقت میں نے کہا جانا یا پھر ہاں جانا۔ گزارش عرض یہ ہے کہ اس صورت حال میں کیا طلاق واقع ہو جا ئے گی یا نہیں ؟ اور اگر طلاق واقع ہوگئی ہو تو رجوع کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر رجوع کیا جا سکتا ہے تو کس طرح سے ؟ اور ہم رمضان کے بعد بھی ملے ہیں۔ براے مہربانی مندرجہ بالا مسائل کا شرعی حل بتائیے تا کہ رخصتی کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 66417

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 815-785/Sd=9/1437 صورت مسئولہ میں درمیان راہ آپ نے اپنی منکوحہ سے جو یہ کہا : ”جا نا یا ہاں جانا“ طلاق کے باب میں یہ لفظ کنائی ہے، اگر اس لفظ کو بولتے وقت آپ کی نیت طلاق کی تھی، تو بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی، تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، باقی سوال میں مذکور اور کسی لفظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ عن الحسن في رجل قال لامرأتہ: اخرجي استتري اذہبي، لاحاجة لي فیک، فہي تطلیقة إن نوی الطلاق۔ (المصنف لابن أبي شیبة ۰/۵۶۰ رقم: ۸۲۹۴) والکنایات: أخرجي واذہبي۔ (شامي ۳/۲۹۸ کراچی، آپ کے مسائل اور ان کاحل جدید ۶/۴۵۵، منتخبات نظام الفتاویٰ ۲/۲۲۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند