• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 6629

    عنوان:

    ہم حرمت مصاہرت کے ایک بہت ہی اہم مسئلہ پر فتوی لینا چاہتے ہیں۔یہ واقعہ ایک سال پہلے کناڈا میں پیش آیا۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:شیطان کے بہکاوے میں آکرایک شخص نے اپنی لڑکی(عمر پندرہ سال) کا پستان چھودیاجب کہ وہ سورہی تھی۔ جتنی مرتبہ اس نے چھوا وہ کپڑوں یا چادر کے اوپر سے تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ چار سالوں میں چار مرتبہ پیش آیا۔ گزشتہ مرتبہ جب یہ واقعہ پیش آیا تواس کو تیرہ ماہ ہوچکے ہیں۔ اس شخص نے اس کے بعد اپنے گناہ گارانہ عمل کا اعتراف کیا اورقرآن کی قسم لینے کے بعد اللہ کی جانب توبہ کرنے کے لیے متوجہ ہوا ۔اور اب پانچ وقت نماز پڑھ کرکے اور قرآن کی تلاوت کرکے اپنی زندگی کاطرز تبدیل کرلیا ہے۔ بدقسمتی سے حال ہی میں اس کی لڑکی نے اپنی ماں سے یہ بات بتادی ہے۔ کناڈا کے ایک عالم سے رابطہ قائم کرنے کے بعد ان عالم صاحب نے یہ مشورہ دیا اس آدمی کے اس گناہ گارانہ عمل کی وجہ سے حرمت مصاہرت قائم ہوگئی ہے۔اس بنیاد پر عالم صاحب نے شوہر سے ایک کاغذ پر طلاق لکھنے کوکہا جس کوشوہر نے اپنی نیت کے بر خلاف لکھ دیا۔ بعد میں اس آدمی نے دوسرے علماء کرام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ جب تک جسم سے براہ راست مس کرناپایا جائے تب تک حرمت مصاحرت قائم نہیں ہوگی۔ کیا ہمیں اوپر مذکور سوال پر فتوی مل سکتا ہے، کیوں کہ اس سے ایک خاندان کی زندگی بچ جائے گی۔ ان کے تین بچے ہیں، ایک سات سال کا لڑکا، دولڑکیاں چودہ اور سولہ سال کی۔

    سوال:

    ہم حرمت مصاہرت کے ایک بہت ہی اہم مسئلہ پر فتوی لینا چاہتے ہیں۔یہ واقعہ ایک سال پہلے کناڈا میں پیش آیا۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:شیطان کے بہکاوے میں آکرایک شخص نے اپنی لڑکی(عمر پندرہ سال) کا پستان چھودیاجب کہ وہ سورہی تھی۔ جتنی مرتبہ اس نے چھوا وہ کپڑوں یا چادر کے اوپر سے تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ چار سالوں میں چار مرتبہ پیش آیا۔ گزشتہ مرتبہ جب یہ واقعہ پیش آیا تواس کو تیرہ ماہ ہوچکے ہیں۔ اس شخص نے اس کے بعد اپنے گناہ گارانہ عمل کا اعتراف کیا اورقرآن کی قسم لینے کے بعد اللہ کی جانب توبہ کرنے کے لیے متوجہ ہوا ۔اور اب پانچ وقت نماز پڑھ کرکے اور قرآن کی تلاوت کرکے اپنی زندگی کاطرز تبدیل کرلیا ہے۔ بدقسمتی سے حال ہی میں اس کی لڑکی نے اپنی ماں سے یہ بات بتادی ہے۔ کناڈا کے ایک عالم سے رابطہ قائم کرنے کے بعد ان عالم صاحب نے یہ مشورہ دیا اس آدمی کے اس گناہ گارانہ عمل کی وجہ سے حرمت مصاہرت قائم ہوگئی ہے۔اس بنیاد پر عالم صاحب نے شوہر سے ایک کاغذ پر طلاق لکھنے کوکہا جس کوشوہر نے اپنی نیت کے بر خلاف لکھ دیا۔ بعد میں اس آدمی نے دوسرے علماء کرام سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ جب تک جسم سے براہ راست مس کرناپایا جائے تب تک حرمت مصاحرت قائم نہیں ہوگی۔ کیا ہمیں اوپر مذکور سوال پر فتوی مل سکتا ہے، کیوں کہ اس سے ایک خاندان کی زندگی بچ جائے گی۔ ان کے تین بچے ہیں، ایک سات سال کا لڑکا، دولڑکیاں چودہ اور سولہ سال کی۔

    جواب نمبر: 6629

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1644=1165/ ھ

     

    جب طلاق واقع ہو کر معاملہ ختم ہوگیا تو مذکورہ فی السوٴال صورت میں یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ کو ختم ہی کردیا جائے عدت گذارکر عورت اپنا کہیں نکاح ثانی کرلے، بچوں کی تربیت سے متعلق غور فکر بچوں کے اعزہ اور مقامی علمائے کرام مل جل کر کرلیں، بچوں کی تربیت کا معاملہ اب کچھ زیادہ اہم نہیں ہے کہ زندگی بچنے یا نہ بچنے کی حالت درپیش ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند