• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 64433

    عنوان: طلاق دینے کے بعد بیوی کو پھر سے نکاح میں لانے کی کیا صورت ہے؟

    سوال: (۱) میری یہ گذارش ہے کہ مجھے ہ بتائیں غصے میں طلاق دی جائے تو طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟ (۲) اور اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد اپنی بیوی کو پھر سے اپنے نکاح میں لانا چاہئے پر وہ حلالہ نہیں کرانا چاہتا تو کیا کوئی صورت اس کی نکلتی ہے؟ (۳) حلالہ جب کہ قرآن سے ثابت ہے تو اس کا انکار کرنے والا کیسا ہے؟ (۴) اور اگر کوئی دیوانگی کی حالت میں اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق دی (تین بار) تو کیا طلاق ہوگئی ؟ (۵) کیا بنا حلالہ کے وہ شخص اپنی بیوی سے وبار ہ نکاح کرسکتاہے؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 64433

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 491-491/M=5/1437 (۱) جی ہاں واقع ہوجاتی ہے۔ (۲) اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق مغلظہ دیدے اور پھر دوبارہ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہے تو یہ حلال شرعی کے بغیر ممکن نہیں۔ (۳) حلالہ کے انکار سے کیا مراد ہے؟ نفس نکاح ثانی کا انکار یا ہمبستری کا انکار؟ اس شخص کے انکار کی پوری نوعیت واضح کرکے سوال کریں۔ (۴) دیوانگی سے مراد اگر مکمل جنون (پاگل پن کی حالت) ہے تو ایسے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ (۵) تین طلاق نہ دی ہو تو دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، طلاق رجعی میں تو عدت کے دوران بغیر نکاح کے ہی رجوع کرسکتا ہے اور عدت گذرجانے کے بعد حلالہ کے بغیر نکاح جدید کرسکتا ہے، اسی طرح طلاق بائن میں نکاح جدید کافی ہے، حلالہ کی شرط نہیں۔ حلالہ صرف اس صورت میں ہے جب کہ شوہر نے بیوی کو تین طلاق دیدی ہے اور پھر دوبارہ دونوں میاں بیوی بن کر ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو حلالہ شرعی کے بغیر کوئی صورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند