• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 63763

    عنوان: نور کو یہ چیزیں وراثت میں والد سے ملنی تھی جو اس نے کھا تھا کہ میں اپنا حصہ لیکر واپس آجاوں گا مگر جب نور کے والد کو پتہ چلا تو نور کے والد نے اسکو حصہ دینے سے انکار کردیا تو نور کے پاس نہ ھی اپنی زمین تھی نہ ھی جانور

    سوال: Fatwa ID: 837-827/N=9/1436-U نمبر فتوی 60279 میں میں ایک بات بتانا بھول گیا تھا کہ زمین اور جانور کا معاملہ یہ تھا کہ نور کو یہ چیزیں وراثت میں والد سے ملنی تھی جو اس نے کھا تھا کہ میں اپنا حصہ لیکر واپس آجاوں گا مگر جب نور کے والد کو پتہ چلا تو نور کے والد نے اسکو حصہ دینے سے انکار کردیا تو نور کے پاس نہ ھی اپنی زمین تھی نہ ھی جانور، جو وہ بیچ نھیں سکتا تھا، اس بناء پر نور گاوّں سے مستقل کراچی رھنے تو آگیا مگر جائیداد اور جانور اپنے نہ ھونے کی بناء پر وہ خالی ھاتھ آیا، کیا اس بناء پر اسکی بیوی کو طلاق واقع ھوجائیگی؟ 09 جولاَئی گرز چکی ھے برائے مھربانی جلد از جلد اس جانب میری رھنمائی فرمادیں۔

    جواب نمبر: 63763

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 391-378/N=4/1437 سابقہ استفتا میں پورے معاہدہ کے نام سے جو الفاظ تحریر کیے گئے، ان میں دور دور تک اس وضاحت کا کوئی احتمال معلوم نہیں ہوتا؛ بلکہ معاہدہ کے الفاظ کی روشی میں یہ وضاحت بالکل خلاف ظاہر ہے، نیز ایک اہم ترین سوال میں ایسے اہم جزو کا بھول جانا بھی سمجھ میں نہیں آتا، اور عجیب بات یہ ہے کہ سائل نے ۱۵/جون ۲۰۱۵ء کو سوال بھیجا اور یکم جولائی ۲۰۱۵ء کو جواب لکھنے تک اسے بھولی ہوئی چیز بالکل یاد نہیں آئی اور جب اس کے پاس جواب پہنچا تو اسے بھولی ہوئی چیز یاد آتی ہے، مزید یہ کہ وہ خلاف ظاہر ہے؛ ، پھر بھی اگر یہ وضاحت صحیح ہے تو یہ بات صاف کی جائے کہ نور احمد نے ۹/ جون ۲۰۱۵ء کو معاہدہ میں تعلیق طلاق کے جو الفاظ کہے یا لکھے، اس وقت اس کی ملکیت میں کچھ جانور اور کھیتی کی کوئی زمین تھی یا نہیں؟ نیز اس سلسلہ میں خود نور احمد اور اس کے والد: امیر احمد کا بیان اور اس کی بیوی: حنا بنت محمد مسکین اوردونوں خاندانوں کے دیگر بعض اہم افراد کے بیانات مع دستخط ارسال کیے جائیں، اس کے بعد انشاء اللہ اس بھولی ہوئی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند