• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 63645

    عنوان: اگر بیوی کو طلاق دیدوں تو کیا مجھے ماں کو بچوں سے الگ کرنے کا گناہ ملے گا؟

    سوال: میری محبت کی شادی ہوئی تھی، دو سال کامیرا ایک بچہ ہے اور ابھی حمل ہے ، میری بیوی زیادہ بولتی ہے ، اونچی آواز میں بولتی ہے ، میرے بارے میں بھائیوں کی عزت نہیں کرتی ہے، میری ماں کی عزت نہیں کرتی ہے، میری بھی عزت بہت کم کرتی ہے، ہمیشہ جھگڑے میں بولتی ہے کہ مجھے طلاق دیدو، مجھے بس پرواہ ہے، اللہ کی اگر میں نے اسے طلاق دیدی تو میرے بچے میرے پاس رہیں گے تو کیا مجھے ماں کو بچوں سے الگ کرنے کا گناہ ملے گا ؟اور اگر بچے اس کے پاس رہے تو میرے اوپر ان کے کونسے حقوق لازم ہوں گے۔ میں بہت پریشان ہوں ۔ اللہ کے لیے براہ کرم، جواب دیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ طلاق ہو، لیکن میری بیوی زیادہ کسی کی گالی گلوچ برداشت نہیں کرپاتی اور وہ بدتمیزی سے بول جاتی ہے۔ عنوان: اگر بیوی کو طلاق دیدوں تو کیا مجھے ماں کو بچوں سے الگ کرنے کا گناہ ملے گا؟

    جواب نمبر: 63645

    بسم الله الرحمن الرحيم

    atwa ID: 452-452/M=5/1437

    اللہ تعالیٰ آپ کی بیوی کو صحیح فہم عطا کرے کہ وہ آپ کی عزت کرے، آپ کے مقام ومرتبے کا خیال رکھے؛ آپ بیوی کی نامناسب حرکتوں پر صبر وتحمل سے کام لیں، اسے نرمی وحکمت سے سمجھاتے رہیں، اس سے کام نہ چلے تو تنبیہ کی غرض سے بستر الگ کرلیں، بوقت ضرورت ہلکی مار کی بھی گنجائش ہے بشرطیکہ چہرہ اور نازک مقام پر نہ ماریں غرض کہ نباہ اور موافقت پیدا کرنے کی ہرممکن تدبیر وسعی کریں، اگر کوئی تدبیر مفید نہ ہو اور نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ نظر آتی ہو تو بدرجہٴ مجبوری بیوی کو طلاق دینے کی گنجائش ہے، اس صورت میں آپ پر کوئی گناہ نہیں، میاں بیوی میں اگر جدائیگی ہوجائے تو بچے کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے بشرطیکہ ماں کا حق حضانت کی وجہ سے ساقط نہ ہو ورنہ پھر نانی وغیرہ کو علی الترتیب حق ہوجاتا ہے، حق پرورش کی مدت بچہ کے لیے سات سال کی عمر تک ہے اور بچی کے لیے نو سال تک اور پرورش کے اخراجات باپ کے ذمہ ہوتے ہیں، اور مدت پرورش مکمل ہوجانے کے بعد باپ اپنے بچوں کو اپنی ترتیب میں لے سکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند