• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 63140

    عنوان: ایک شخص نی جہوٹی طلاق نامہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو تین طلاق کا طلاق نامہ بھیج دیا تھا اور طلاق نامہ کی موصول ہونے سے پہلے اپنی بیوی سے جو بیرون ملک اپنی بہایی کے گہر عارضی طور پر مقیم تہی ، موبائبل فون پر صراحت سے بتایا تہا کہ (میں نے صرف ایک جہوٹی طلاق خط کے ذریعہ بھیجا ہے ، کوئی فکر نہ کرنا ، تم پہلے کی طرح میری بیوی ہو ۔ اور بیوی نے کہا تہا کہ ٹھیک ہے ،تو کیا اس طور میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

    سوال: ایک شخص نی جہوٹی طلاق نامہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو تین طلاق کا طلاق نامہ بھیج دیا تھا اور طلاق نامہ کی موصول ہونے سے پہلے اپنی بیوی سے جو بیرون ملک اپنی بہایی کے گہر عارضی طور پر مقیم تہی ، موبائبل فون پر صراحت سے بتایا تہا کہ (میں نے صرف ایک جہوٹی طلاق خط کے ذریعہ بھیجا ہے ، کوئی فکر نہ کرنا ، تم پہلے کی طرح میری بیوی ہو ۔ اور بیوی نے کہا تہا کہ ٹھیک ہے ،تو کیا اس طور میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

    جواب نمبر: 63140

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 163-163/Sd=3/1437-U صورت مسئولہ میں پہلے اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ مذکورہ شخص نے جھوٹا طلاق نامہ لکھنے سے پہلے کیا اس بات پر گواہ بھی بنائے تھے کہ وہ اپنی بیوی کو جھوٹا طلاق نامہ بھیج رہا ہے؟ طلاق نامہ کا مضمون کیا تھا؟ بیوی کو جھوٹا طلاق نامہ بھیجنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ مذکورہ امور کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں اور ساتھ میں طلاق نامہ بھی منسلک کریں، پھر ان شاء اللہ حکم پر غور کیا جائے گا۔ ------------------------- واقعةً طلاق دیا نہ ہو یونہی جھوٹ موٹ طلاق لکھ دینے سے بھی طلاق پڑجاتی ہے، اوپر جواب میں ذکر کردہ تنقیحات کا جواب دیں تو پھر آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند