• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 62244

    عنوان: طلاق مشروط

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا کے بارے میں، (۱) زید کی ساس نے یہ منت مانی کہ اگر اسکا فلاں کا ہو گیا تو وہ زید کی بیٹی کے ہاتھوں محرم کا علم رکھوائیگی ،زید کی بیوی نے یہ منت پوری کرنے کے لئے زید سے اصرار کیا ۔لیکن زید نے یہ کہ کر منع کر دیا کہ یہ ایک بدعتانہ عمل ہے ،اس پر زید کی بیوی اور زید میں تکرار ہوگئی ،زید نے غصہ میں کہ دیا کہ "اگر بہی سب کرنا ہے تو تو آزاد ہے " ملحوظ رہے کہ بحث کے دوران تعزیہ اور مزار ہی پیش نظر تھے -اور انہیں دونوں کو لیکر بحث ہوئی تھی باقی دوسرے بدعات زیر بحث نہیں تھے .تو کیا زید کے مذکورہ الفاظ ادا کر دینے سے طلاق واقع ہو گئی ؟ جب کہ زید کا مقصد محض تنبیہ کی تھی تا کہ بیوی مشرکانہ عمل سے باز رہے ۔اگر ہاں تو کونسی طلاق ہوئی؟اور رجوع کا طریقہ کیا ہے ؟اور اگر طلاق مشروط و معلق ہو گئی تو تو کیا اگر بیوی مستقبل میں تعزیہ داری اور مزار پرستی کے علاوہ اگر کوئی اور بدعت والا عمل کر لے تو کیا پھر سے طلاق ہو جائیگی ؟جب کہ بیوی کو تمام بدعتی اعمال معلوم بھی نہیں ۔اگر بیوی تمام زندگی بدعت والا عمل کرتی رہے تو کیا بار بار طلاق ہوتی رہے گی ؟اگر ایسا ہے تو شوہر کتنی بار رجوع کر سکتا ہے ؟ (۲) کیا مسئلہ پوچھنے کے لئے طلاق کے الفاظ دہراتے رہنے سے بار بار طلاق ہوتی رہے گی؟مثال کے طور پر زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی ، قاضی نے پوچھا تم نے کیا کہا تھا؟ زید کہتا ہے "میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ "تو آزاد ہے " قاضی نے پھر سے یہی سوال پوچھا زید نے دوبارہ اس جملہ کو دوہرا دیا کہ "میں نے کہا تھا تو آزاد ہے " تو کیا اس سے دو طلاقیں بلا نیت اور واقع ہو گئیں ؟ اسی طرح زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی اور الگ الگ تین دوستوں سے اس واقعہ کو بتایا بعینہ وہی انفاظ دوہراتے ہوئے تو کیا اس سے دو مزید طلاقیں واقع ہو گئیں ؟

    جواب نمبر: 62244

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 53-64/L=2/1437-U (۱) مذکورہ بالا صورت میں ایک طلاق رجعی زید کی بیوی پر واقع ہوگئی اگر زید اپنی بیوی سے تا وقت عدت رجعت کرلیتا ہے تو رجعت ہوجائے گی رجعت کی صورت یہ ہوگی کہ شوہر دو لوگوں کی موجودگی میں یہ کہہ دے کہ ”میں نے اپنی بیوی سے رجعت کرلی ہے“۔ رجعت ہوجائے گی یہ تعلیق کی صورت نہیں ہے اس لیے بعد والے سوالات لغو ہیں، ساتھ رہنے کے لیے بس ایک مرتبہ رجعت کرلینا کافی ہوجائے گا۔ (۲) سابق میں پیش آئے واقعے کی خبر دینے سے مزید طلاق واقع نہیں ہوتی خواہ خبردینا قاضی کے سامنے ہو یا دوستوں سے بات چیت کے دوران ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند