• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 62217

    عنوان: جھوٹا طلاق نامہ

    سوال: Fatwa ID: 1233-1248/L=10/1436-U صورت مسئولہ میں جب تک شوہر طلاق نامہ کو چھپائے ہوئے تھا اس وقت تک جھوٹے اقرار کے سلسلے میں دیانةً اس کی بات معتبر ہوئی اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ ہوتا؛ لیکن جب شوہر نے طلاقنامہ بیوی کو دکھادیا تو اب یہ معاملہ دیانت سے نکل کر قضا میں داخل ہوگیا اب شوہر کی بات کا اعتبار نہ ہوگا؛ بلکہ طلاق نامہ میں صراحت کے مطابق بیوی پر طلاق واقع ہوگئی اگر اس میں مختلف اوقات میں تین مرتبہ طلاق دینا مذکور ہے تو تین طلاق بیوی پر واقع ہوگئی اور وہ مغلظہ بائنہ ہوکر شوہر پر حرام ہوگئی۔ --------------------------------- نوٹ: اور اگر جھوٹا طلاق نامہ لکھواتے وقت دو گواہ ہوگئے جنھیں معلوم ہے کہ جھوٹا طلاق نامہ لکھوارہے ہیں تو اس صورت میں مذکورہ طلاق نامہ لکھوانے سے کسی قسم کی طلاق نہیں پڑی۔ (د) واللہ تعالی اعلم مندرجہ بالا صورت میں کہ جھوٹا طلاق نامہ تیار ہوا، اور اس میں جو گواہ تھے وہ بھی جھوٹے تھے اور ان کو اس بات کا علم بھی تھا کہ یہ طلاق نامہ جھوٹا ہے اور یہ بات حقیقت تھی کہ وہ طلاق نامہ بھی جھوٹا تھا اور اس کے گواہ بھی جھوٹے تھے تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 62217

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 117-105/L=2/1437-U اگر کسی شخص کا طلاق دینے کا بالکل قصد نہ ہو بلکہ محض بیوی کو ڈرانا یا دھمکانا مقصود ہو اور وہ فرضی طلاق نامہ بنوائے اور طلاق نامہ بنوانے سے پہلے اس بات پر دو گواہ بنالے کہ فرضی اور جھوٹا طلاق نامہ بنوانے جارہا ہے اور گواہوں کو بھی یہ معلوم ہو تو اس طرح جھوٹا طلاق نامہ بنوانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ قال: أنت طالق أو أنت حر وعنی الإخبار کذبًا وقع قضاء إلا إذا أشہد علی ذلک․ (الدر مع الرد: ۴/ ۵۲۲، ط: زکریا دیوبند) البتہ اگر گواہ بنائے بغیر طلاق نامہ تیار کرایا اور پھر دعوی کیا کہ وہ فرض اور جھوٹا طلاق نامہ تھا تو اس کا دعوی معتبر نہ ہوگا اور طلاق نامہ میں صراحت کے مطابق بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ -------------------------- نوٹ: جواب درست ہے گواہ بنانے میں اس طرح کی صراحت ہو کہ نہ میں نے طلاق دیا ہے نہ طلاق دینے کا ارادہ ہے جھوٹ موٹ کاغذ میں طلاق کی بات لکھوارہا ہوں۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند