• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 62086

    عنوان: زید نے کچھ سال پہلے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اگر تو اپنی فلاں بہن سے بات کرے گی تو تجھے تینوں طلاق لیکن اب زید چاہتا ہے کہ اسکی اہلیہ اپنی بہن سے بات کرے ۔

    سوال: زید نے کچھ سال پہلے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اگر تو اپنی فلاں بہن سے بات کرے گی تو تجھے تینوں طلاق لیکن اب زید چاہتا ہے کہ اسکی اہلیہ اپنی بہن سے بات کرے ۔ تو کیا زید کی اہلیہ اپنی فلاں بہن سے بات کریگی تو طلاق ہو جاے گا ؟

    جواب نمبر: 62086

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 92-92/Sd=3/1437-U شرط پر طلاق کو معلق کر دینے کے بعد شرط واپس لینے کا حق نہیں رہتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر زید کی اہلیہ اپنی فلاں بہن سے بات کرے گی، تو ایسی صورت میں اُس پر طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی خواہ زید کی اجازت ہی سے وہ بات کرے، اِس سلسلے میں زید کی اجازت کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہوگا؛ البتہ تعلیق طلاق کو ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ زید اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دیدے، پھر عدت پوری ہونے کے بعد زید کی اہلیہ فلاں بہن سے بات کرلے، اس طرح تعلیق ختم ہوجائے گی، پھر زید اپنی اہلیہ سے دوبارہ نکاح کر لے، دوبارہ نکاح کے بعد اگر اس کی بیوی فلاں بہن سے بات کرے گی، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ قال في الہندیة: واذا أضافہ الی الشرط، وقع عقیبَ الشرط اتفاقاً، مثل أن یقول لامرأتہ: ان دخلت الدار، فأنت طالق۔ (الفتاوی الہندیة: ۱/۴۸۸، الفصل الثالث في تعلیق الطلاق بکلمة ان و اذا و غیرہا، ط: مکتبة الاتحاد، دیوبند، وکذا في الہدایة: ۲/۳۸۵، باب الأیمان في الطلاق، رشیدیة، فتاوی محمودیة: ۱۳/۱۲۵، ۱۲۶، باب تعلیق الطلاق، بعنوان: کیا شرطِ معلق کو واپس لیا جا سکتا ہے؟) وان وجد في غیر الملک، انحلت الیمین، بأن قال لامرأتہ: ان دخلت الدار، فأنت طالق، فطلقہا قبل وجود الشرط، ومضت العدة، ثم دخلت الدار، تنحل الیمین، ولم یقع شيء، کذا في الکافي۔ (الفتاوی الہندیة: ۱/۴۱۶، الباب الرابع في الطلاق بالشرط) وقال الحصکفي: فحیلة من علق الثلاث بدخول الدار أن یطلقہا واحدة، ثم بعد العدة تدخلہا، فتنحل الیمین، فینکحہا۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۳۵۵، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ط: دار الفکر، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند