• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61463

    عنوان: طلاق کے لیے صراحتاً یا کنایةً ایسے الفاظ کا تلفظ کرنا ضروری ہے جن سے قطع کرنے اور باہم مربوط رشتہ کے ختم ہوجانے کا پتہ چلے

    سوال: اگر شوہر نے اپنی بیوی کے بارے میں یہ الفاظ کہے ۔ "قیامت تک اسکو گھر نہیی بلانی " یا "نہیں بلاؤں گا" مذکورہ الفاظ سے بہ وقت مذاکرئہ طلاق اور بہ نیت طلاق اور عدم مذاکرئہ طلاق و عدم نیت طلاق سے طلاق کا کیا حکم ہوگا؟ نیز عرف میں ان الفاظ سے طلاق مراد ہونے اور نہ ہونے سے حکم کیا ہوگا؟ جواب شافی مرحمت فرماکر ماجور ہو۔ جزاکم اللہ فی دارین و زادکم اللہ علما

    جواب نمبر: 61463

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1385-1449/L=1/1437-U طلاق کے لیے صراحتاً یا کنایةً ایسے الفاظ کا تلفظ کرنا ضروری ہے جن سے قطع کرنے اور باہم مربوط رشتہ کے ختم ہوجانے کا پتہ چلے ”قیامت تک اس کو گھر نہیں بلانی“ یا ”نہیں بلاوٴں گا“ یہ طلاق کے الفاظ نہیں ہیں، اس لیے ان الفاظ سے کوئی طلاق بیوی پر واقع نہیں ہوئی، عرف کی وجہ سے اس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں آئے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند