• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61377

    عنوان: خلع منظوری مین تاخیر کی صورت مین کیا شوہر خلع منظوری تک کے عرصے کا نفقہ دینے کا پابند ہے؟

    سوال: میری لڑکی لمعت النور، عبید الٰہی صاحب کی زوجیت مین ہے .صلح کی کوششوں کے ناکامی کے بعد اس نے اپنے شوہر کی شدید زود کوب ،گلا گھونٹنا ، جوتے سے چہرے پر مارنا وغیرہ مظالم سے تنگ آکر اپنے شوہر کو خلع کی تحریری درخواست دے کر اپنے شوہر کی موجودگی مین اس کا گھر چھوڑ دیا اور اب پانچ ماہ سے میرے پاس ہے . اس اثنا مین مسلسل خلع منظور کرنے انھیں ایس ایم ایس اور فون کے ذریعہ درخواست کی گء مگر وہ اپنی بدنامی کے ڈر سے ٹال مٹول کر کے معاملے کو طول دے رہے ہین .ایسی صورت مین خلع منظوری تک کیا انہیں نفقہ دینا ضروری ہے یا لمعت کا جان کے خطرے کے پیش نظر شوہر کا گھر چھوڑنا ناشزہ کی تعریف مین آے گا ؟ اگر وہ ناشزہ ہے اور اسے برسوں خلع منظور نہ کی جائے تو کیا اس کے نفقہ کی ذمہ داری شوہر کی نہین ؟ وضاحت سے رہنماء فرمائیں.

    جواب نمبر: 61377

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1430-1453/L=1/1437-U مذکورہ بالا صورت میں اگر شوہر بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا تو اس کو چاہیے کہ طلاق یا خلع دے کر بیوی کو اپنی زوجیت سے نکال دے بیوی کو لٹکائے رکھنا درست نہیں جہاں تک ان ایام کے نفقہ کا تعلق ہے تو شوہر اگر واقعی بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا، بیوی کے شوہر کے یہاں رہنے کی صورت میں شوہر اس کو مسلسل زد وکوب کرتا رہتا ہے اور اس کے ظلم سے تنگ آکر بیوی والد کے یہاں رہتی ہے تو تاوقت طلاق یا خلع اس کا نفقہ شوہر پر ہوگا، مسلم شریف کی حدیث میں ہے: آدمی کے گناہ کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کے حقوق کو ضائع کرے جن کا نان ونفقہ اس کے ذمہ ہے۔ (مشکاة ص: ۲۹۰) لہٰذا مذکورہ بالا صورت میں جب کہ زیادتی شوہر کی طرف سے ہے شوہر پر ضروری ہے کہ وہ بیوی کے حقوق نان نفقہ وغیرہ اداء کرے (مستفاد آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۶/۴۲۳)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند