• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61354

    عنوان: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندجہ زیل سلسلہ میں کہ زید نے قسم کھا ئی کہ میں ہندہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی سے شادی کروں تو طلاق تو کیادین اسلام میں دوسری لڑکیوں سے نکاہ کرنے کی کوء شکل وصورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ برائے کم قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمایئں ۔عین و نوازش ہو گی۔ مقام نیاڈیہ باراہاٹ بانکا بہار۔

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندجہ زیل سلسلہ میں کہ زید نے قسم کھا ئی کہ میں ہندہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی سے شادی کروں تو طلاق تو کیادین اسلام میں دوسری لڑکیوں سے نکاہ کرنے کی کوء شکل وصورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ برائے کم قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمایئں ۔عین و نوازش ہو گی۔ مقام نیاڈیہ باراہاٹ بانکا بہار۔

    جواب نمبر: 61354

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1387-1450/L=1/1437-U قسم میں حانث ہونے سے بچنے کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ زید کا نکاح کوئی فضولی کردے اور زید قولاً اجازت دینے کے بجائے فعلاً اجازت دیدے۔ قال في الشامي: وینبغی أن یجیء إلی عالم ویقول لہ ما حلف واحتیاجہ إلی نکاح الفضولی فیزوجہ العالم امرأة ویجیز بالفعل فلا یحنث (شامي: ۴/ ۵۹۴) واضح رہے کہ ہندہ کے علاوہ کسی اور لڑکی سے نکاح کرنے کی صورت میں صرف پہلی لڑکی کو طلاق واقع ہوگی، اس کے بعد خود اسی لڑکی یا دوسری لڑکی سے نکاح کرنا درست ہوگا اور طلاق واقع نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند