• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61350

    عنوان: مسئولہ صورت میں آپ کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوکر مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ شرعی آپ کے ساتھ رہنا حرام ہے۔

    سوال: میری زوجہ مجھ سے جھگڑا کرکے اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی تو میں نے اس کے جانے کے بعد غصے میں ایک کاغذ پر کچھ یوں لکھ دیا کہ میں ․․․․والد، ․․․․․رہائش ․․․․․․․․․․․اپنی بیوی ․․․․․․․․․․والد ،․․․․․․․رہائش، اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنی بیوی سے آپسی نا اتفاقی سے تنگ آ کر اس کو طلاق دیتاہوں ، طلاق دیتاہوں ، طلاق دیتاہوں۔ مگر جب یہ تحریر میں نے لکھی تب میں اکیلا تھا اور یہ نیت تھی کہ اب اگر زیادہ بات بڑھی تو یہ تحریر میں اپنی بیوی تک بھیجوا دں گا تو کیا اس طرح میری طلاق ہوگئی؟ مہربانی کرکے شریعت کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 61350

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1130-1130/M=11/1436-U مسئولہ صورت میں آپ کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوکر مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ شرعی آپ کے ساتھ رہنا حرام ہے۔ الکتابة علی نوعین مرسومة وغیر مرسومة ونعنی بالمرسومة أن یکون مصدّرًا ومعنونًا مثل ما یکتب إلی الغائب وغیر المرسومة أن لا یکون مصدَّرًا ومعنونًا وہو علی وجہین مت الکتابة علی نوعین مرسومة وغیر مرسومة ونعنی بالمرسومة أن یکون مصدرا ومعنونا مثل ما یکتب إلی الغائب وغیر موسومة أن لا یکون مصدرا ومعنونا وہو علی وجہین مستبینة وغیر مستبینة فالمستبینة ما یکتب علی الصحیفة والحائط والأرض علی وجہ یمکن فہمہ وقرائتہ ․․․ وإن کانت مستبینة لکنہا غیر مرسومة إن نوی الطلاق یقع وإلا فلا وإن کانت مرسومة یقع الطلاق نوی أو لم ینو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن کتب: أما بعد فأنت طالق فکلما کتب ہذا یقع الطلاق وتلزمہا العدة․ (الفتاوی الہندیة: ج۱ ص۳۷۸ ط: نورانی کتب خانہ، پشاور)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند