• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61194

    عنوان: کن حالات میں ایک طلاق شدہ لڑکی عدت نہ کرنے کی اجازت ہے؟

    سوال: ایک لڑکی کو شادی کے تین مہینے بعد طلاق ہو گئی۔ اس کی والدہ یہ بتا کر کہیں سے فتوی لے آئیں کہ مجھے لڑکے والوں پر کیس کرناہے اور اس تعلق سے لڑکی کو کورٹ کچہری آنا جانا پڑے گا ۔ لہذا اب مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں عدت نہ کرانا جائز ہے ؟ دوسرا سوال یہ کہ وہ کون سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی بنا پر طلاق شدہ لڑکی کو عدت نہ کرنے کء اجازت ہے ؟ آخری سوال یہ کہ عدت میں کن وجوہات کے لیے بازار یا اسی طرح کے کسی کام کے لیے جایا جا سکتا ہے ؟

    جواب نمبر: 61194

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1149-893/D=11/1436-U (۱) طلاق کے بعد عدت کا زمانہ (مکمل تین ماہواری جو طلاق کے بعد سے شروع ہوگی) گھر میں رہ کر گذارنا عورت کے ذمہ لازم (واجب) ہے کہیں آنا جانا منع ہے۔ اسی طرح سوگ (غمی) کرنا بھی عدت کے زمانہ میں لازم ہے، یعنی بناوٴ سنگار نہ کرنا، شوخ بہاردار کپڑے نہ پہننا، چوڑی زیور نہ پہننا، تیل خوشبو، مہندی نہ لگانا، کنگھی نہ کرنا یہ سب چیزیں عدت کے دنوں میں واجب ہیں۔ عدت اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس کی خلاف ورزی کرنا سخت گناہ کا باعث ہے۔ سوال میں جو وجہ آنے جانے کی لکھی ہے یہ غیر شرعی وجہ ہے، اس کی بنا پر بھی آنے جانے کی اجازت نہیں ہے، مفتی صاحب کا فتوی منسلک کریں۔ (۲) آپ کا سوال بہت بے تکا ہے، حکم عدت گذارکر عدت کا وقت پورا کرنے اور عدت کے احکام کی پابندی کرنے کا ہے، بس۔ عدت کسی حال میں بھی معاف نہیں ہے، یہ حکم خداوندی ہے رہی اس کی پابندیاں جو لازم ہیں تو جس پابندی کے پورا کرنے میں بڑی تکلیف کا سامنا ہو اس کی تفصیل لکھ کر حکم معلوم کریں۔ مثلاً ہارٹ کا دورہ پڑگیا تو کیا اسے ڈاکٹر کے یہاں لے جاسکتے ہیں یا نہیں؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند