• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 61161

    عنوان: کیا کہتے ہیں علما اور مفتیان کرام اس مسَلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کوموبائل پر بزریعہ میسیج غصہ میں یہ کہا کہ اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ، مجھے ایسی بیوی کی ضرورت نہیں ہے جو میرے والدین کی عزت نہ کرے ۔۔میرا مقصد وہی تھا کہ اس وقت میں اسے نہیں رکھنا چاہتا۔س مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میرا نکاح باقی رہا یا نہیں؟ او اگر طلاق ہوئی ہے تو 1 یا 3 طلاق ہوئی؟

    سوال: کیا کہتے ہیں علما اور مفتیان کرام اس مسَلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کوموبائل پر بزریعہ میسیج غصہ میں یہ کہا کہ اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ، مجھے ایسی بیوی کی ضرورت نہیں ہے جو میرے والدین کی عزت نہ کرے ۔۔میرا مقصد وہی تھا کہ اس وقت میں اسے نہیں رکھنا چاہتا۔س مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میرا نکاح باقی رہا یا نہیں؟ او اگر طلاق ہوئی ہے تو 1 یا 3 طلاق ہوئی؟

    جواب نمبر: 61161

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1147-962/D=11/1436-U اگر طلاق کے مقصد سے آپ نے مذکور فی السوال جملے میسیج کئے، اس کے پیش نظر آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی، عدت کے اندر یا عدت کے بعد بھی آپ دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کرکے ازدواجی رشتہ قائم کرسکتے ہیں، اور عدت پوری ہونے کے بعد عورت آپ کے بجائے دوسرے مرد سے نکاح کرنے کی بھی مجاز ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند