• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 602589

    عنوان:

    میری سانس نکلنے سے پہلے تجھے تین طلاق کا حکم

    سوال:

    اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے یہ کہے کہ میری سانس نکلنے سے پہلے تجھے تین طلاق۔ اور دو تین دفعہ یہی بات کہ چکا ہو؟ اس کے کیا اثرات ہونگے ؟ کیا اس کا کفارہ ادا کیا جاسکتا ہے یا سانس نکلنے سے پہلے طلاق ہوجائے گی؟

    جواب نمبر: 602589

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:504-187T/sn=7/1442

     صورت مسئولہ میں اس وقت تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی؛ البتہ سانس نکلنے (یعنی شوہر کی وفات) سے عین پہلے تین طلاق واقع ہوجائے گی، اس سے بچنے کی کوئی صورت (کفارہ وغیرہ کی شکل میں) نہیں ہے، عورت عدتِ وفات ہی گزارے گی الا یہ کہ اس دوران تین ماہواری نہ گزریں تو پھر تین ماہواری کی تکمیل ضروری ہے۔ واضح رہے کہ یہ عورت اپنے شوہر کی وارث بھی ہوگی جس طرح ”امرأة الفار“ وارث ہوتی ہے۔ (”فار“ وہ شخص کہلاتا ہے جو مرضِ وفات میں بیوی کو طلاقِ مغلظہ دے اور عدت سے پہلے ہی وفات پاجائے) ۔

    مستفاد: ومن ہذا القبیل إذا طلق امرأتہ ثم مات، فإن کان الطلاق رجعیا انتقلت عدتہا إلی عدة الوفاة سواء طلقہا فی حالة المرض أو الصحة وانہدمت عدة الطلاق، وعلیہا أن تستأنف عدة الوفاة فی قولہم جمیعا... وإن کان بائنا أو ثلاثا فإن لم ترث بأن طلقہا فی حالة الصحة لا تنتقل عدتہا؛ لأن اللہ تعالی أوجب عدة الوفاة علی الزوجات بقولہ عز وجل {والذین یتوفون منکم ویذرون أزواجا یتربصن} (البقرة: 234) وقد زالت الزوجیة بالإبانة، والثلاث فتعذر إیجاب عدة الوفاة فبقیت عدة الطلاق علی حالہا. وإن ورثت بأن طلقہا فی حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضی العدة فورثت اعتدت بأربعة أشہر وعشر، فیہا ثلاث حیض، حتی أنہا لو لم تر فی مدة الأربعة أشہر، والعشر ثلاث حیض تستکمل بعد ذلک، وہذا قول أبی حنیفة، ومحمد. (بدائع الصنائع3/ 317، کتاب الطلاق، فصل فی بیان ما یعرف بہ انقضاء العدة، مطبوعة:زکریا)

    (ولو قال: أنت طالق إن لم أطلقک لم تطلق حتی یموت) لأن العدم لا یتحقق إلا بالیأس عن الحیاة... وموتہا بمنزلة موتہ ہو الصحیح... (قولہ ولو قال: أنت طالق إن لم أطلقک لم تطلق حتی یموت) باتفاق الفقہاء لأن الشرط أن لا یطلقہا، وذلک لا یتحقق إلا بالیأس عن الحیاة، لأنہ متی طلقہا فی عمرہ لم یصدق أنہ لم یطلقہا بل صدق نقیضہ وہو أنہ طلقہا، والیأس یکون فی آخر جزء من أجزاء حیاتہ ولم یقدرہ المتقدمون بل قالوا: تطلق قبیل موتہ، فإن کانت مدخولا بہا وورثتہ بحکم الفرار وإلا لا ترثہ. (فتح القدیر3/ 317، فصل فی إضافة الطلاق إلی الزمان، دار الفکر)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند