• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 602156

    عنوان:

    طلاق كے سلسلے میں وساوس كا حكم اور اس كا علاج؟

    سوال:

    میں نے بہت پہلے یوٹوب پر ایک مفتی صاحب کا دیکھا تھا-اس میں وہ بتا رہے تھے کی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ قسم میں جب بھی نکاح کرونگا تو میرا طلاق ہو جائے گا تو اب جب بھی نکاح کرے گا تو اس کا طلاق ہو جائے گا-اس لیے ایسی بات نہیں بولنی چاہیے - ایک بار میں کچھ سوچ رہا تھا تو یہی بات میرے خیال آیا کی میں جب بھی نکاح کرونگا تو میرا طلاق ہو جائے گا یہ بات میں کبھی بھی نہیں بولونگا- میری نیت نہیں بولنی کی تھی - میرا یقین ہے کہ مینے نہیں بولا ہے -وہ بس خیال تھا-اب مجھے بار بار وسوسے آ رہا ہے ہیں - میں بہت پریشان ہوں - میری عمر 25 سال ہے میری شادی بھی نہیں ہوئی ہے میری پوری زندگی باقی ہے - مجھے بہت وسوسے آتے ہیں 3 سال سے پریشان ہوں-نماز میں پاکی ناپاکی اور بھی بہت طرح کے وسوسے آتے ہیں -

    جواب نمبر: 602156

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 387-301/D=06/1442

     وسوسہ اور خیال آنے سے کچھ نہیں ہوتا آپ بلا تردد کسی لڑکی سے شادی کرسکتے ہیں۔

    وساوس کا علاج یہ ہے کہ آدمی اس طرف دھیان نہ دے اور کسی مباح یا طاعت کے کام میں اپنے کو مصروف کرلے۔

    پاکی وغیرہ کے سلسلے میں وساوس آنے اور نماز میں وساوس آنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر واقعی وضو کے ٹوٹنے یا کپڑے یا جسم کے ناپاک ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس پر غور کریں پھر ظن غالب یا یقین پر عمل کریں اور اگر نماز میں تعداد رکعت کے سلسلے میں پہلی مرتبہ شک ہوا ہو تو پھر نماز کا استیناف کرے اور اکثر ہوتا ہو تو پھر یقین پر عمل کریں ۔ کذا فی الشامی: ۱/۲۸۳، و ج: ۲/۵۶۰۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند