• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 600114

    عنوان:

    كسی كام سے باز رہنے كا جملہ كہنا اور كلما كی قسم كی نیت كرنا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں درج ذیل مسئلہ کے بارے میں مفتیان کرام* زید کوئی کام کر رہا تھا وہ کام صحیح سے نہ ہو سکا تو زید نے اپنے کان پکڑے اور زبان سے یہ کہا کہ میں فلاں کام سے کان اینٹھتا ہوں اپنی زبان سے یہ الفاظ کہے اور خاموش ہوگیا اور نیت اس سے کلما کی قسم کی یعنی طلاق ثلاثہ کی نیت کرلی اب زید وہ کام کرلیتا ہے جس سے اُسنے کان پکڑے تھے اور کلما کی قسم کی نیت کی تھی تو کیا الفاظ سے بہی کلما کی قسم منعقد ہوجائے گی واضح رہے زید ابھی غیر شادی شدہ ہے جلد ازجلد جواب دیکر ممنون ومشکور ہوں۔

    جواب نمبر: 600114

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 80-50/H=02/1442

     اگر صرف یہی معاملہ پیش آیا کہ ”زید نے کان پکڑے اور زبان سے یہ کہا کہ میں فلاں کام سے کان اینٹھتا ہوں“ اور اس کے بعد خاموش ہوگیا اور کوئی لفظ زبان سے بہ سلسلہٴ طلاق نہیں نکالا؛ البتہ کلما کی قسم کی نیت کرلی تو ایسی صورت میں کلما کی قسم کا انعقاد نہ ہوا، زید اگر شادی کرلیتا ہے تو کسی قسم کی طلاق واقع نہ ہوگی۔ اگر کوئی لفظ کلما قسم سے متعلق نکالا ہو تو اس کو صاف صحیح واضح لکھ کر سوال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند