• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 59396

    عنوان: كیا عورتیں بھی طلاق دے سكتی ہیں؟

    سوال: 1)क्या इस्लाम् में महिलाएं भी तलाक़ दे सकती? और तलाक के कितने प्रकार होते हैं ? मेरा नाम मुहम्मद अहमद उस्मानी है मैं ज़िला बलरामपुर से हूँ मार्च 2012 में मैंने अपनी बीवी समर जहाँ को तलाक दे दिया था तलाक़ देने का कारन ये है की मैं बीमार था मुझे मलेरिया हो गया था और मेरी बीवी मेरे बिना इज़ाज़त के अपने वालिदा के साथ चली गयी तो इसमें मेरी गलती है की मेरी बीवी की? दोसरी बात ये है की उसके माँ बाप बोल रहे हैं की तलाक़ नहीं हुवा हैं क्या ससुराल के लोग अपनी लड़की की शादी किसी दूसरे के साथ में कर सकते है?

    جواب نمبر: 59396

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 645-645/N=8/1436-U (۱) جی نہیں، طلاق کا حق شریعت میں صرف مرد کو دیا گیا ہے، حدیث میں ہے: إنما الطلاق لمن أخذ بالساق“ (سنن ابن ماجہ، ص: ۱۵۱، مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)، البتہ اگر شوہر نے عورت کو طلاق کا اختیار دیدیا یا اسے طلاق کا مالک بنادیا تو عورت بعض شرائط کی رعایت کے ساتھ اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے، اور ان شرائط کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے، جو بوقت ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے۔ (۲) طلاق کی تین قسمیں ہیں؛ طلاق اَحسن، طلاق حسن اور طلاق بدعی۔ اور ایک دوسری تقسیم ہے، اس میں بھی طلاق کی تقسیم تین قسمیں ہیں؛ ایک وہ طلاق جس میں نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور دوبارہ نکاح کے لیے اس سے پہلے حلالہ ضروری ہوتا ہے، دوسری قسم: وہ طلاق جس میں نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے لیکن حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح جائز ہوتا ہے، دورانِ عدت صرف رجعت کرلینے سے ملکِ نکاح دائم اور برقرار ہوجاتی ہے، تفصیل کتابوں میں ہے۔ (۳) آپ کی بیوی کو آپ کی اجازت کے بغیر اپنے والد کے ساتھ میکے نہیں جانا چاہیے تھا بالخصوص جب کہ آپ بیمار بھی تھے، اور آپ کے سسر کو بھی ایسے موقعہ پر بیٹی کو نہیں لیجانا چاہیے تھا، وہ بھی آپ کی اجازت کے بغیر۔ (۴) اور اگر آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے تو بلاشبہ اس پر طلاق واقع ہوگئی اور جتنی طلاقیں آپ نے دیں ا تنی واقع ہوئیں اور آپ کی بیوی کے ماں باپ کے انکار کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، آپ کے اقرار کے بموجب طلاق بہرحال واقع ہوگئی۔ (بہشتی زیور مدلل ۴: ۲۰، طلاق دینے کا بیان، مسئلہ: ۱) (۵) جی ہاں! اگر آپ نے تین طلاقیں دی تھیں یا طلاق بائن دی تھی یا طلاق رجعی دی تھی اور عدت کے دوران آپ نے رجعت نہیں کی اور بہرصورت اب عدت پوری ہوچکی ہے تو لڑکی کے ماں باپ اس کا نکاح کسی دوسری جگہ کرسکتے ہیں اور اگر صورت واقعہ کچھ اور ہو تو حکم دوسرا ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند