• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 58984

    عنوان: ایک شخص اپنے ایک ساتھی کے سامنے اپنی بیوی کے متعلق یہ کہا کہ میں اسے طلاق دے دونگا یا یا کہا ہے کہ میں نے اسے طلاق دیدی اب دونوں جملوں میں یاد نہیں رہا کہ کیا کہا تھا اپنے ساتھی سے پوچھنے پر وہ بتایا کے تم تو چھوڑنے کے بارے میں بات نہیں کیے تھے بولے تھے کے چھوڑ دے دینگے ۔اب ایسی حالت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟، اگر ہوئی تو کون سی طلاق ہوئی؟

    سوال: ایک شخص اپنے ایک ساتھی کے سامنے اپنی بیوی کے متعلق یہ کہا کہ میں اسے طلاق دے دونگا یا یا کہا ہے کہ میں نے اسے طلاق دیدی اب دونوں جملوں میں یاد نہیں رہا کہ کیا کہا تھا اپنے ساتھی سے پوچھنے پر وہ بتایا کے تم تو چھوڑنے کے بارے میں بات نہیں کیے تھے بولے تھے کے چھوڑ دے دینگے ۔اب ایسی حالت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟، اگر ہوئی تو کون سی طلاق ہوئی؟

    جواب نمبر: 58984

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 854-868/L=7/1436-U ”طلاق دیدوں گا“ وعدہٴ طلاق اور طلاق کی دھمکی کے الفاظ ہیں اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ البتہ طلاق دیدی کے الفاظ طلاق کے صریح الفاظ ہیں، جن سے بہرصورت طلاق واقع ہوجاتی ہے، جس شخص کو یہ شبہ ہے کہ اس نے طلاق دے دوں گا کے الفاظ کہے ہیں یا طلاق دیدی ہے کہا ہے اس کو چاہیے کہ ذہن پر زور دے کر کسی ایک شق کو متعین کرے، اگر کوئی شق متعین نہ ہوپائے تو شک کی وجہ سے طلاق کا حکم عائد نہ ہوگا، علم أنہ حلف ولم یدر بطلاق أو غیرہ لغا کما لو شکَّ أ طَلَّق أم لا؟ (الدر المختار)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند