• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 58915

    عنوان: طلاق دینے کے اصل ضابطے اور طریقے

    سوال: (۱) میرا سوال یہ ہے کہ طلاق دینے کے اصل ضابطے اور طریقے نیز اس سے جڑی ہوئی دیگر چیزیں جیسے عدت، حلالہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کردی ہے، کیا ہیں؟جو ضابطہ میں نے سنا ہے لگتاہے کہ وہ خلط ملط ہوگیاہے۔ میں طلاق، عدت اور حلالہ کے بارے میں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کی ہے، کے بالکل صحیح طریقے کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ (۲) کیا بات درست ہے کہ محض لفظ طلاق دہرانے سے میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں؟ (۳) کیا یہ بھی صحیح ہے کہ جس وقت شوہر طلاق دے رہا ہو تواس وقت بیوی حالت حیض میں نہ ہو ؟ براہ کرم، مکمل رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 58915

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 911-882/L=7/1436-U (۱)

    طلاق دینے کے تین طریقے ہیں: (۱) احسن (بہت اچھا) طریقہ(۲)حسن (اچھا) طریقہ (۳) بدعت اور حرام۔ احسن طریقہ: یہ ہے کہ مرد بیوی کو پاکی کے زمانے میں (یعنی ا یسے وقت میں جس میں حیض وغیرہ سے عورت پاک ہو) ایک طلاق دے بشرطیکہ اس تمام پاکی کے زمانے میں صحبت نہ کی ہو اور عدت گذرنے تک پھر کوئی طلاق نہ دے۔ حسن (اچھا) طریقہ: یہ ہے کہ بیوی کو تین پاکی کے زمانوں میں تین طلاق دے اور ان پاکی کے زمانوں میں صحبت نہ کرے۔ بدعت اورحرام طریقہ: یہ ہے کہ تین طلاق یکبارگی دیدے یا حیض کی حالت میں دے، یا جس پاکی میں صحبت کی تھی اس میں طلاق دے اس اخیر قسم کی سب صورتوں میں گو طلاق واقع ہوجائے گی مگر گناہ ہوگا۔ عدت: اگر کسی عورت کو خلوت کے بعد اس کا شوہر طلاق دیدے یا خلع ایلاء وغیرہ کسی ا ور طرح سے نکاح ٹوٹ جائے یا شوہر مرجائے گو خلوت نہ ہوئی ہو تو ان سب صورتوں میں ایک خاص مدت تک عورت کو ایک گھر میں رہنا پڑتا ہے، اس مدت گذارنے کو عدت کہتے ہیں۔ طلاق اور خلع کی عدت تین ماہواری ہے اگر عورت کو ماہواری آتی ہو اور اگر صغرسنی یا درازی عمر کی وجہ سے عورت کو ماہواری نہ آتی ہو تو تین مہینے عدت کے ہوں گے اور اگر عورت حاملہ ہے تو وضع حمل عدت پوری ہوجائے گی اور موت کی عدت ۴/ مہینے دس دن ہیں بشرطیکہ عورت حاملہ نہ ہو ورنہ وضع حمل سے عدت پوری ہوجائے گی۔ حلالہ: اگر شوہر اپنی مدخولہ بیوی کو تین طلاق دے خواہ تین متفرق الفاظ سے یا یکبارگی تینوں طلاق دیدیے اور اگر غیرمدخولہ ہے اور اس کو یکبارگی تین طلاق دے مثلاً یہ کہہ دے کہ میں نے تجھے تین طلاق دیدی تو جب تک وہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے (اگر مدخولہ ہے تو عدت کے بعد ورنہ عدت کے بغیر ہی اگر غیر مدخولہ ہے) پھر وہ شخص اس سے صحبت کے بعد اس کو بخوشی طلاق دیدے یا وفات پاجائے پھر عورت عدت گذارے، عدت گذارنے کے بعد اگر وہ دوبارہ شوہر اول سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرنا جائز ہوگا بغیر اس کے نکاح کرنا حرام ہوگا، یہی حلالہ کہلاتا ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ (۲) اگر حقیقةً یا حکما کوئی ایسا قرینہ ہو جس سے پتہ چلے کہ یہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہے تو طلاق کے الفاظ دہرانے سے طلاق ہوجائے گی اور جتنی بار دہرائے گا اتنی طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ تین سے زائد مرتبہ نہ ہو، اور اگر کوئی قرینہ حقیقتاً یا حکما نہ پایا جائے تو محض طلاق کے تکرار سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ (۳) طلاق حالت حیض میں بھی واقع ہوجاتی ہے مگر ایسی حالت میں طلاق دینا گناہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند