• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 58902

    عنوان: طلاق كے لیے سرٹیفكٹ كی ضرورت ہے كیا؟

    سوال: میں نے تین مہینے میں اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہے اور بیوی نے اس قبول بھی کرلیا ہے، اب مجھے کسی مفتی سے اس کا سرٹیفیکیٹ چاہئے کمپنی کو دکھا نے تاکہ میری بیٹی کو وہی فائدہ ملے جو مجھے کمپنی سے مل رہاہے۔ یہ بھی بتائیں کہ طلاق کے بعد بیوی کن کن چیزوں کا دعوی کرسکتی ہے؟ میری سمجھ کے حساب سے وہ اپنے مہر کی رقم اور جو سامان شادی کے وقت لائی تھی اس کا مطالبہ کرسکتی ہے؟لیکن میرے اس کیس میں اس کے والدین نقد پانچ لاکھ روپئے کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ وہ پہلے ہی میری طرف سے زیورات لے چکے ہیں جو مہر کی رقم کے دوگنا تھے ۔ اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک سید مسلم فیملی کا کسی کی محنت سے کمائی آمدنی کو لینا ہندوستانی قانون کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے یا ایسی سوسائٹی کی ہمدردی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں ہر کوئی مرد (شوہر)کے پیچھے پڑا ہو اہے، جائز عمل ہے؟نیز انہوں نے ہماری بیٹی کو بھی میرے پاس چھوڑ دیا ہے ، جب کہ ان کے گھر میں دو بیٹیاں پہلے سے موجود ہیں، تاہم میں اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر خوش ہوں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 58902

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID:343-343/Sd=7/1436-U

    اگر آپ کو اقرار ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہیں، تو شرعاً آپ کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوگئی، طلاق کے بعد شوہر پر مطلقہ کی عدت کا نفقہ، مہر اگر ادا نہ کی ہو اور بچوں کا نفقہ واجب ہوتا ہے، مطلقہ بیوی اپنے مملوکہ سامان کو بھی واپس لے سکتی ہے، صورتِ مسئولہ میں اگر مطلقہ بیوی کے والدین شوہر پر واجب شدہ مذکورہ حقوق سے زائد رقم کا مطالبہ کررہے ہیں، تو ان کا مطالبہ غیر شرعی ہے، شوہر کے لیے واجب شدہ رقم سے زائد دینا واجب نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند