• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 58257

    عنوان: انسان کے عمل کا دارمدار نیت پر ہے تو اگر انسان نے دل سے ارادہ کرلیا کہ مجھے اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے، تو کیا اس حدیث کے تحت اس کی طلاق ہوئی کہ نہیں؟

    سوال: انسان کے عمل کا دارمدار نیت پر ہے تو اگر انسان نے دل سے ارادہ کرلیا کہ مجھے اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے، تو کیا اس حدیث کے تحت اس کی طلاق ہوئی کہ نہیں؟ صحیح حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 58257

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 55-55/M=6/1436-U

    آپ نے حدیث کا مطلب ٹھیک طور پر نہیں سمجھا ہے، ”إنما الأعمال بالنیَّات“ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو کسی بھی کام پر ثواب اسی وقت ملتا ہے جب کہ اس نے اس کام کی نیت کی ہو اور وقوعِ طلاق کے لیے الفاظِ طلاق کا زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، محض نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی، شامی میں ہے: وہو (الطلاق) رفع قید النکاح في الحال أو المآل بلفظٍ مخصوص ہو ما اشتمل علی الطلاق أي علی ما دة ”ط ل ق“ صریحًا مثل أنت طالق․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند